انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 152

انوار العلوم جلدے ۱۵۲ تقاریر ثلاثه چھٹا محکمہ ، محکمہ تعلیم ہے۔ یہ بہت وسیع ہے اس میں یہ بحث ہو گی کہ تعلیم کس طرح ہو۔ مفت یا قیمت پر ۔ انتظام تعلیم کس طرح پر ہو۔ پھر لازم ہو یا اختیاری۔ پھر اس صیغہ کی بہت سی شاخیں ہیں۔ زنانہ تعلیم ۔ مردانہ تعلیم مختلف علوم کی تعلیم۔ ساتواں محکمہ ، علاج انسانی اور حیوانی۔ ڈاکٹر اور ویٹرنری ڈاکٹر۔ پھر اسی میں ایک محکمہ حفظان صحت کا ہوتا ہے۔ پھر اسی میں طبی تعلیم کے ذرائع اور اسباب پر بحث ہے۔ آٹھواں محکمہ خزانہ کا ہے۔ نواں محکمہ انتظامی ہے۔ جیسے ڈپٹی کمشنر۔ تحصیلداروغیرہ۔ دسواں محکمہ فصل قضاء یا عدالت کا ہے۔ حج اور قاضی کس طرح مقرر ہوں۔ گیارہواں محکمہ مال کا ہے۔ اس میں زمینداروں کے تمام معاملات سے بحث ہوتی ہے۔ بارھواں محکمہ ڈاک کا ہے۔ تیرھواں محکمہ انہار کا ہے۔ چودھواں محکمہ ریلوے کا ہے۔ پندرھواں محکمہ آبکاری کا ہے۔ اس میں شراب اور دیگر منشیات کی نگرانی کرنا ہے نا جائز طور پر کشید اور فروخت نہ ہو۔ سولہواں محکمہ تعمیرات کا ہے۔ سترھواں محکمہ ٹکسال اور سکہ جات کا ہے۔ اس میں سکہ بنانے کا علم ہوتا ہے۔ روپیہ کس قدر بنوانا چاہئے پیسہ کس قدر چاہئے۔ دوسرے سکے جو ضروری ہیں۔ پھر یہ بھی اس میں بتایا جائے گا کہ جعلی سکوں کی شناخت کا کیا علم ہے۔ اٹھارھواں محکمہ رجسٹری کا ہے۔ بعض معاملات میں فساد ہو جاتے ہیں اس لئے معاملات خرید و فروخت اور دستاویزات ضروریہ کی رجسٹری کا قانون جاری کر دیا جاتا ہے تاکہ سرکاری تصدیق ہو جائے۔ انیسواں محکمہ تجارت کا ہے۔ اس محکمہ کے ذریعہ سرکار دیکھتی ہے کہ ملک کی تجارتی ترقی کس طرح ہو سکتی ہے۔ اس ملک کی کونسی تجارتیں ہیں جو دوسرے ممالک میں پھیل سکتی ہیں۔ بیسواں محکمہ فوج کا محکمہ ہے۔ یہ بڑا وسیع علم ہے اس میں دیکھا جاتا ہے کہ کس قسم کے ہتھیاروں کی ضرورت ہے ، کتنی فوج ہو ، کس قسم کی ہو وغیرہ وغیرہ۔