انوارالعلوم (جلد 7) — Page 151
انوار العلوم جلدے ۱۵۱ تقاریر ثلاثه 11- بحث۔ حکومت اور مذہب کے تعلقات کیا ہیں۔ کس حد تک مذہب کو بادشاہت کے ماتحت رہنا چاہئے اور کس حد تک بادشاہت کو ۔ ۱۲- بحث یہ ہے کہ حکومت میں عورتوں کا کس قدر دخل ہے۔ ۱۳- بحث نو آبادیات کے متعلق ہے کہ کس طرح قائم کی جائیں۔ نو آبادیوں اور ملکوں کے کیا تعلقات ہوں۔ ۱۴- بحث دو بادشاہوں کے تعلقات کس قسم کے ہوں۔ ۱۵- بحث ، تعلقات بین الاقوام۔ مختلف قوموں کے باہمی تعلقات کس قسم کے ہوں۔ ان میں باہم تنازعات ہوں تو فیصلہ کس طرح پر ہو۔ ہر ایک ان میں اپنے قائم مقام چنتا ہے۔ اس کے متعلق کچھ اصول ہیں اور وہ قانون بین الاقوامی کہلاتا ہے اس کے مطابق فیصلے ہوتے ہیں۔ ۱۶- بحث نیابتی حکومت کرنے والے آر والے آپ حاکم پ حاکم ہیں یا نہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ نیابتی حکومت والے دراصل حاکم نہیں بلکہ ان کو نیابت مل گئی ہے جیسے عراق کا بادشاہ ہے۔ دراصل اس کی حکومت لیگ آف نیشنز کے سپرد ہے۔ اور لیگ نے اسے انگریزوں کے سپرد کر دیا ہے۔ ۱۷- بحث دو حکومتوں کے علاقے کی حد بندی ہے۔ اس میں بحث ہو گی کہ کون سے ایسے قوانین ہوں کہ جس سے حد بندی ہو سکے۔ اس میں دیکھا جائے گا کہ کس قوم کے لوگ بہتے ہیں اور کس کو فلاں حصہ دیا جائے گا تو نقصان ہو گا۔ ۱۸- بحث یہ ہوگی کہ حکومت کا انتظام کس طرح پر ہو۔ اس کی پھر بہت سی شاخیں ہیں۔ (1) ایک نظام مرکزی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ دوسروں کو بھی اختیارات دیئے جائیں۔ جیسے یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ پنجاب ، برما یوپی وغیرہ کو اختیارات دیئے۔ گورنر بنا دیئے۔ پھر ہر ایک صوبہ میں کمشنر اور ڈپٹی کمشنر وغیرہ ہیں اور بعض یہ کہتے ہیں کہ تمام اختیارات مرکز کو ہی رہیں۔ گویا نظام مرکزی کے متعلق دو حصے ہیں۔ کل اختیارات مرکز کو ہوں یا دوسروں کو بھی ہوں۔ تیسری بحث اس میں پولیس کے متعلق ہے کہ کیا اختیارات ہوں۔ چوتھا محکمہ تجسس کا ہے جس کو سی آئی ڈی کہتے ہیں جس کے ذریعہ حالات کا علم ہوتا رہے۔ پانچواں محکمہ جنگلات ہے۔ جنگلات کو کس حد تک محفوظ رکھا جائے اور کس حد تک جنگلات کو کاٹ کر زرعی آبادیوں کی صورت میں منتقل کیا جائے بہت سی تفاصیل اس میں ہیں۔