انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 129

انوار العلوم جلدے ۱۲۹ تقاریر ثلاثه مختلف فرقوں میں جو اختلافات ہیں وہ کسی قسم کے ہیں۔ عقائد کے لحاظ سے مسلمانوں میں جو فرقے ہیں ان میں ایک دوسرے کے عقائد کے لحاظ سے کیا اختلاف ہے۔ مثلاً ایک مسنی کہلاتے ہیں جن میں حنفی، مالکی ، حنبلی، شافعی سب داخل ہیں دوسرے شیعہ ہیں۔ ستیوں اور شیعوں کا بڑا اختلاف مسئلہ خلافت کے متعلق ہے۔ مسئلہ خلافت کے متعلق پھر بحث ہو گی کہ خلافت ہے یا نہیں۔ ہے تو کس حد تک ماننا ضروری ہے اور پھر خلافت انتخاب سے ہوگی یا اولاد سے ؟ دوسرا مسئلہ اختلاف کا یہ ہے کہ قرآن مجید کی وحی لفظوں میں ہے یا یہ خیالات اور اس کا مضمون وحی ہوا ؟ اسی ضمن میں خدا تعالیٰ کی صفات پر بحث ہے کہ کیا خدا کلام کر سکتا ہے یا اس کا بولنا اور سنتا اور ہے ؟ تیسرا اختلاف اس بات پر ہے کہ خدا تعالی کے کلام کے مقابلہ میں رسول کا بھی کوئی حق ہوتا ہے یا نہیں ؟ یہ اصول ہیں جو خلفاء کے ماننے والے لوگوں میں اور جو خلفاء کے متعلق اختلاف کرتے ہیں قابل غور ہیں۔ دوسرا فرقہ خارجیوں کا ہے ان کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہ کے بعد کوئی خلافت نہیں وہ کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ چاہئے تھی اور یہ بھی ان کا خیال ہے کہ گناہ کے بعد ضرور جہنم میں جانا ہو گا۔ شفاعت نہ ہو گی ان کے فرقہ کی اصل بنیاد یہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد نعوذ باللہ غلطی کی جو خلیفہ مقرر کیا۔ خوارج حضرت علی کرم اللہ وجہ کے وقت میں ہوئے ہیں۔ تیسرا فرقہ معتزلی ہے۔ عمر بن عمیر نے بنایا ان کا خیال ہے کہ عقل خدا نے دی ہے اس سے کام لیا جائے یہ لوگ صفات تقدیر اور کلام کے منکر ہیں۔ چوتھا فرقہ شیعہ کا ہے۔ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ امت میں ایک شخص ہو جو امام ہو اور یہ آپ کی اولاد کا حق تھا۔ آ انحضرت ا کے بعد حضرت علی اور پھر حضرت علی کی اولاد کا حق ہے۔ یہ فرقہ خصوصیت سے خلفاء کا دشمن ہے اور نعوذ باللہ ان کو ٹھگ قرار دیتا ہے۔ پانچواں فرقہ نیچری ہے۔ ان کا طریق یہ ہے کہ یورپ کے علوم کے ماتحت اسلام کو کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بڑی غلطی ہے کہ بندے کے علم کے موافق خدا کا کلام ہو۔ نیچریوں کا بظاہر عقیدہ تو یہ ہے کہ خدا کا کلام خدا کے فعل سے الگ نہ ہو مگر جب تطبیق کرنے لگتے ہیں تو خدا کے کلام کی بجائے انسان کے کلام سے کرتے ہیں۔ یہ فرقہ معتزلہ سے ملتا ہے۔