انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 120

انوار العلوم جلدے ۱۲۰ تقاریر ثلاثه چونکہ صدوقی فرقہ ایک سیاسی فرقہ ہی تھا اس لئے یہودیت کی تباہی کے ساتھ وہ مٹ گیا۔ (۴) چوتھا ہندو مذہب ہے۔ دراصل یہ کوئی مذہب نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے ہندو مذہب آنے سے پہلے جو لوگ ہندوستان ہندوستان میں موجود تھے وہ ہندو کہلاتے تھے ان میں موٹے موٹے فرقے یہ ہیں۔ سب سے زیادہ اور سب سے قدیم سناتن دھرم ہے یہ بہت پرانا مذ ہب ہے اور وید پر یقین رکھتے ہیں اور اس کو خدا کا کلام سمجھتے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ وید کے بعد کوئی نئی شریعت اور کتاب نہیں آئی ہے بلکہ او تاروں کے ذریعہ وید کا علم آتا ہے۔ کرشن اور رام چندر کو اوتار مانتے ہیں۔ اس مذہب کا زیادہ مدار بت پرستی پر ہے اور تین بڑے دیو تا برہما وشنو اور شو کو مانتے ہیں اور بھی چھوٹے چھوٹے بہت سے دیوتاؤں کو مانتے ہیں مگر سب سے بڑے ہی ہیں۔ آگے پھر ان میں مذہبی فرقے ہیں۔ بعض برہما کو بڑا بتاتے ہیں اور بعض وشنو کو اور بعض شو کو۔ برہما پیدائش کا دیوتا ہے، تو آرام اور دولت کا اور وشنو ہلاکت کا یعنی موت کا۔ پھر ان فرقوں میں ایک اہم فرقہ ہے جو کرشن جی کو ماننے والا ہے وہ وید کو خاص طرز پر مانتے ہیں لیکن ان کا خیال ہے۔ کہ کرشن جی نے گیتا میں جو کچھ بیان کیا ہے وہ ویدہ کو پڑھ کر نہیں آتا اس لئے وہ گیتا ہی کو پڑھتے ہیں۔ وہ گیتا کے علم کو مکمل سمجھتے ہیں اور ویدوں پر اس کو فضیلت دیتے ہیں اس لئے وہ ایک نیا ہی فرقہ ہے۔ پھر ایک اور فرقہ ان میں ویدانتی یا ویدانت کہلاتا ہے۔ اس فرقہ والے سمجھتے ہیں کہ سب کچھ خدا ہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دنیا کو ایک خدا کا خیال ہے اور ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ سب کچھ ہمیشہ سے ہے۔ اور اگر یہ ہمیشہ سے نہیں تو پھر کہاں سے آگیا۔ پس یہ خدا کا خیال ہے اور در حقیقت یہ کچھ نہیں۔ پھر ایک فرقہ وام مارنگ ہے ان کا عقیدہ عملی طور پر یہ ہے کہ ساری روحانی ترقی عیاشی پر موقوف ہے۔ یہ لوگ کثرت سے پھیلے ہوئے ہیں۔ پھر ایک مذہب آریہ مذہب ہے یہ اوتاروں کو نہیں مانتے اور یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا تعالٰی نے روح اور مادہ کو پیدا نہیں کیا بلکہ یہ دونوں چیزیں بھی ہمیشہ سے مستقل طور پر ہیں۔ اپنے وجود کے لئے خدا تعالیٰ نے ان چیزوں کو لے کر جو ڑ جاڑ دیا جس طرح کمہار مٹی لے کر برتن بنا دیتا ہے۔ اور یہ مذہب نجات کے متعلق کہتا ہے کہ جو کچھ ملتا ہے وہ صرف کرموں کا پھل ہے اور اس کو تناسخ یا آواگون کا عقیدہ بتاتے ہیں کہ انسان بار بار اپنے عملوں کی جزاء سزا بھگتے۔ کے لئے اس دنیا میں بار بار آتا رہتا ہے اور کبھی اس کو ہمیشہ کی نجات نہیں مل سکتی۔