انوارالعلوم (جلد 7) — Page 119
انوار العلوم جلدے 119 تقاریر ثلاثه تیسرا مذہب پروٹسٹنٹ پروٹسٹنٹ کے معنے ہیں مقابل میں اظہار نفرت یا اظہار علیحدگی۔ ان لوگوں نے پوپ سے علیحدگی کا اظہار کر دیا۔ رومن کیتھولک سے یہ لوگ نکل کر علیحدہ ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ ہر شخص آزاد ہے پوپ کچھ چیز نہیں ان کے ہاں بھی گر جا ہے اور وہ اسے بادشاہ کے ماتحت سمجھتے ہیں۔ یہ تو انگلستان کا حال ہے یورپ کے باقی ممالک والے گرجے کے ماتحت سمجھے جاتے ہیں جن میں عام لوگوں کی بھی رائے ہوتی ہے۔ ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ مسیح کی صلیب کے سامنے یا کسی بزرگ یا مریم کے بت کے سامنے جھکنا جائز نہیں اور انجیل کا ترجمہ دوسری زبانوں میں کرنا جائز ہے برخلاف رومن کیتھولک والوں کے جو کہتے ہیں کہ انجیل اصلی زبان میں پڑھنی چاہئے۔ چوتھا فرقہ یونی ٹیرین ہے جو ایک خدا کو مانتے ہیں۔ حضرت مسیح علیہ السلام کو وہ خدا یا خدا کا بیٹا نہیں مانتے بلکہ ان کو آخری اور بڑا نہی یقین کرتے ہیں۔ عیسائیت کے یہ بڑے بڑے فرقے بیان کئے ہیں ان میں چھوٹے چھوٹے اور بھی بہت سے فرقے ہیں لیکن بڑے بڑے فرقے میں ہیں۔ (۳) تیسرا مذہب یہودیت ہے۔ یہ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت یہودی مذہب ہیں اور تو راہ کو مانتے ہیں۔ حضرت مسیح علیہ السلام کو جھو ٹا یقین کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک آنے والے مسیح کی پیشگوئی ضرور ہے مگر مسیح ابن مریم کا دعوی غلط ہے وہ کہتے ہیں مسیح سے پہلے ایلیانی آسمان سے آئے گا۔ ملا کی نبی تک سب کو مانتے ہیں البتہ حضرت سلیمان کو بھی بڑا کہتے ہیں اور حضرت داؤد کو نبی مانتے ہیں۔ اصل مذہب کی بنیاد تو راہ پر رکھتے ہیں۔ یہودی مذہب کے دو بڑے فرقے ہیں۔ ایک صدوقی دوسرے فریسی صدوقی سیاسی فرقہ ہے اور آزاد خیال ہے۔ ان کا یہی خیال تھا کہ بائیبل ہر شخص سمجھ سکتا ہے اس لئے وہ حالات زمانہ کے ماتحت ہائیبل کے معنی کر لیتا تھا اور یہ فرقہ چونکہ سیاسی تھا بادشاہوں کی مدد پر تھا۔ بادشاہوں کو بھی اپنی حکومت چلانے کے لئے ان کی ضرورت تھی اس لئے وہ بھی ان کی مدد کرتے اور آزادی دے دیتے تھے تا کہ حسب مطلب معنے کر لیں۔ در حقیقت یہ ایک سیاسی فرقہ تھا اس فرقہ کو کسی حد تک اہل حدیث کی مانند کہہ سکتے ہیں۔ دوسرا فرقہ فریسی حنفیوں کی مانند ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ بزرگوں کے اقوال کی بھی تقلید ضروری ہے اور دوسرے ملکوں کے فتح کرنے کے خلاف تھے بلکہ اپنے ملک کو محدود رکھنا چاہتے تھے۔