انوارالعلوم (جلد 6) — Page 79
انوار العلوم جلد 4 ។ ۷۹ بیعت کرنیوالوں کیلئے ہدایات لحاظ سے کوئی قابل کشش چیز نہیں ہے کہ جسے دیکھنے کے لئے کوئی آوے ۔ ادھر مولوی کہتے ہیں کہ جو آئے گا وہ اسلام سے خارج ہو جائے گا اور لوگوں کو روکنے میں پورا پورا زور لگا رہے ہیں باوجود اس کے حضرت مرزا صاحب کا الہام لوگوں کو کھینچ کھینچ کر یہاں لا رہا ہے۔ کوئی کہے یہاں سیر یہ ہوتا کہ لوگ سیر کے طور پر آجاتے ہیں مگر انہیں یہ بھی تو خطرہ ہوتا ہے کہ ایمان جاتا رہے گا کیونکہ ان کے علماء نے فتوی دے رکھا ہے کہ جو شخص احمدیوں سے ملتا جلتا حتی کہ ان کو دیکھتا ہے وہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ مگر باوجود اس کے لوگ آئے اور آرہے ہیں جو ثبوت ہے اس سلام سے بات کا کہ يَأْتُونَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ خدا کی طرف سے الہام ہے جو پورا ہو رہا ہے ۔ ایک اور ثبوت انبیاء کی صداقت کا خدا تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ ہماری ذاری تیسری دلیل میری دی ہے کہ ہم رسولوں کو ان کے مخالفین پر غلبہ دیتے ہیں اور یہ ایسی سنت ہے ہے کہ ہم رسولوں کو ان جو کبھی نہیں بدلتی ۔ اس ثبوت کی رو سے بھی حضرت مرزا صاحب کی صداقت ثابت ہے کیونکہ ساری دنیا آپ کے مقابلہ پر آئی اور آپ کی باتوں کو روکنا چاہا مگر آپ کا سلسلہ پھیل ہی گیا اور دن بدن پھیل رہا ہے۔ تکالیف برداشت کرنے کیلئے تیار رہنا چاہئے یہ ایسے میر صداقت ہیں کہ جو سب انبیاء کے لئے مشترک ہیں اور یہ سب حضرت مرزا صاحب کے متعلق پائے جاتے ہیں۔ ان کو دیکھ کر اور سمجھ کر جو شخص بعیت ور یہ مرزا صاحبه کریگا اسے اگر کسی امر کے متعلق شبہ پیدا ہو گا تو ایسی بات ہو گی کہ کہے گا کہ مجھے اس کا علم نہیں ہیں کے ہوگا تو ہوگی گاکہ اس کے متعلق تحقیقات کروں گا نہ کہ وہ صداقت کو چھوڑنے کے لئے تیار ہو جائے گا لیپس ہر اس شخص کا فرض ہے جو اس سلسلہ میں داخل ہونا چاہیے کہ اس طرح سمجھ کر اور تحقیقات کر کے داخل ہو اور جب داخل ہو جائے تو پھر خواہ اس پر کوئی مصیبت آئے اس کی پرواہ نہ کر ہے۔ اب تو وہ مصیبتیں اور تکلیفیں نہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت مسلمان ہونیوالوں کو برداشت کرنا پڑتی تھیں۔ اس وقت تو عورتوں کی شرم گاہوں میں نیزے مارے گئے تپتی ریت پر لٹایا گیا، اونٹوں سے باندھ کر چیرا گیا اور طرح طرح کی تکالیف پہنچائی گئیں جو ہماری جات کو نہیں پہنچیں۔ مگر ایسا ایمان ہو کہ انسان کے کہ اگر ایسی کوئی تکلیف آئی تو بھی میں قائم رہونگا اور اپنی جگہ سے ذرا نہ ہٹوں گا ۔ یہ خیال نہ کرے کہ اب اس قسم کی تکالیف کا زمانہ نہیں رہا اس لئے نہیں