انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 78

انوار العلوم جلد 4 ۷۸ بیعت کرنیوالوں کیلئے ہدایات نہ رہی۔ پھر خدا تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا ایک یہ معیار بیان فرماتا ہے دکتو تقول عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ لَا خَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ - ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ نَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ (الحاقة : ۲۵ تا ۴۸) که اگر یہ ہم پر جھوٹ بولتا تو ہم اسے تباہ کر دیتے۔ اور یہ بات عقلاً بھی درست ہے کہ خدا پر جھوٹ بولنے والے کو تباہ ہونا چاہئے کیونکہ اگر افتراء کرنے والا بیچ رہے تو کوئی پہچان ہی نہ سکے کہ فلاں خدا کی طرف سے ہی ہے ۔ دیکھیو اگر کوئی شخص دنیاوی گورنمنٹ کا افسر ہونے کا جھوٹا دعوی کرے تو گورنمنٹ اسے گرفتار کر لیتی ہے پھر جو شخص نبی ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرے اسے خدا تعالیٰ کیوں نہ پکڑے۔ قرآن کریم نے اس دلیل کو رسول کریم کے متعلق پیش کیا ہے اور یہ صرف آپ ہی کے لئے نہیں بلکہ عام ہے لیکن اگر اس کو صرف رسول کریم کے لئے قرار دیا جائے تو یہ دلیل ہی نہیں رہتی کیونکہ اگر پہلے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے اس دلیل کے ما تحت ہلاک ہوتے رہے ہیں تو رسول کریم کے وقت بھی اس کو پیش کیا جا سکتا تھا لیکن اگر پہلے ہلاک کے وقت بھی اس کوپیش کیا جا سکتا تھا اگر نکلے اپنا نہیں ہوئے تو پھر اس کا پیش کرنا درست نہیں ہو سکتا لیکن چونکہ یہ ایسی دلیل ہے کہ ہر زمانہ میں اثر دکھاتی رہی ہے اس لئے رسول کریم کے وقت بھی پیش کی گئی اور اب حضرت مرزا صاحب کے رہی وقت بھی پیش کی جا سکتی ہے ۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کو دعوی کے بعد جتنی زندگی عطا ہوئی اتنی اگر جھوٹے نبی کو بھی مل سکتی ہے تو پھر یہ آیت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کی دلیل نہیں رہ جاتی کیونکہ حضرت مرزا صاحب کو اپنے الہامات شائع کرنے سے لیکر قریباً تمیں سال زندگی حاصل ہوئی جو کہ رسول کریم کی دعویٰ نبوت کرنے سے بعد کی زندگی سے زیادہ ہے ۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ مرزاعات کے اتنے عرصہ کے الہام اب بنا لئے گئے ہیں مگر آپ کی اس وقت کی کتا ہیں گورنمنٹ کے ہاں موجود ہیں اور ان میں الہام درج ہیں ۔ پھر آپ کو جو الہام ہوئے وہ نہایت صفائی کے ساتھ پورے ہوئے اور ہجر ہے دوسری دلیل ہیں۔ آپ کو الہام ہوا کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔ کہ کو اور اب ایسا ہی ہو رہا ہے۔ پھر آپ کو بتایا گیا کہ تیرے ذریعہ اسلام کی اشاعت ہوگی چنانچہ ہو رہی ہے۔ خدا تعالیٰ احمدیت کو دنیا میں پھیلا رہا ہے ۔ پھر آپ کو کہا گیا کہ قادیان میں لوگ دور دور سے آئیں گے يَأْتُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ ۔ اب مثلاً آپ ہی اتنی دور سے آئے ہیں یہاں دنیاوی تذکرہ ملا ایڈیشن چهارم به تذکره ۲۹ ایڈیشن چهارم