انوارالعلوم (جلد 6) — Page 71
انوار العلوم جلد 4 بیعت کرنیوالوں کیلئے ہدایات کتاب نہیں اور کیا بلحاظ اس کے آپ کی لائی ہوئی شریعیت کے بعد کوئی شریعیت نہیں لیکن اسی سے ہم ایک اور نتیجہ پر پہنچے ہیں اور وہ یہ ہے کہ جو چیز ہمیشہ رکھنے کے لئے ہوتی ہے اس میں اگر کوئی نقص پیدا ہو جائے تو اس کی فوراً اصلاح کی جاتی ہے۔ مثلاً وہ کپڑا جو کئی سال پہنچنا ہو اس میں اگر سوراخ ہو جائے تو فوراً کر و کرایا جاتا ہے لیکن جو کپڑا اتار کر کسی کو دے دینا ہو اس کی پروا نہیں کی جاتی ۔ پس چونکہ یہ شریعت آخری شریعت ہے اس لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جب اس میں کوئی رخنہ پڑے فوراً خدا تعالیٰ اس کی طرف توجہ کر سے کیونکہ اس شریعت نے قیامت تک چلنا ہے ۔ اگر بدل جانا ہوتا تو پھر ایسی ضرورت نہ تھی لیکن چونکہ یہ دین ، یہ کتاب اور یہ رسول ہمیشہ کے لئے ہے اس لئے اس کے متعلق جو کمزوریاں پیدا ہو جائیں ان کا دُور کرنا ضروری ہے ۔ اس کے ماتحت ہمارا یقین ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہمیشہ ایسے وقت کہ جب دین میں فتنہ برپاہو ایسے لوگ ہوتے رہیں گے جو اس کی اصلاح کریں گے ۔ رسول کریم کے غلام کی شان ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ساتھ ہی ہم یہا اعتقاد بھی رکھتے ہیں کہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم درجہ عظمت اور عرفان میں سب انبیاء سے بڑھے ہوئے ہیں اس لئے آپ کے شاگردوں اور غلاموں میں سے جو لوگ دین کی اصلاح کے لئے کھڑے ہونگے وہ پہلے انبیاء کی امتوں میں سے کھڑے ہو نیوالوں سے بڑھ کر ہونگے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ خدا ان سے کلام کرتا تھا اس امت میں بھی ایسا ہی ہو گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ پہلے انبیاء کے ذریعے ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے ہیں اور جب ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کے کمالات گذشتہ تمام انبیاء کے کمالات سے بڑھ کر ہیں تو اسی وجہ سے ہمارا یہ بھی عقیدہ ہے کہ پہلے انبیاء کی اُمتوں میں جو ایسے لوگ پیدا ہوئے جن سے خدا تعالیٰ کلام کرتا تھا وہ محدث تھے مگر رسول کریم صل اللہ علیہ سلم کی امت میں نبی بھی ہوا جو اتنی ہو رہی تھا وہ نبیوں میں جاکر ان کی صف میں کھڑا ہوگا اور بعض سے اپنی شان میں بڑھ کر بھی ہو گا مگر پھر بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم کا امتی ہی ہو گا۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ کالج کا ایک لڑکا چھوٹے مدارس کا خواہ ممتحن مقرر ہو جائے لیکن جب کالج میں آئے گا بحیثیت ایک شاگرد کے ہی ہو گا ۔ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ شان ہے کہ آپ کی شاگردی میں ایک انسان وہ درجہ حاصل کر سکتا ہے کہ بعض دوسرے انبیاء سے بڑھ سکتا ہے اس کی مثال چاند کی ہے جس کے سامنے تارے ماند ہو جاتے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال سورج کی ہے کہ آپ کے سامنے چاند بھی ماند ؟ بخاری کتاب فضائل اصحاب النبي باب مناقب عمر بن الخطاب ہے۔