انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 51

انوار العلوم جلد 4 ۵۱ معیار صداقت ایک لطیفہ ہے کہ ایک جگہ کوئی اندھی عورت بیٹھی تھی۔ سردی کا موسم تھا اس پر جو چادر تھی ویکسی شخص نے اُتار لی۔ عورت نے کہا بچہ حاجی میری چادر دیدے۔ اس نے چادر تو دیدی مگر پوچھا کیائی تو یہ بتا کہ تجھے یہ معلوم کیسے ہوا کہ میں حاجی ہوں ۔ عورت نے کہا کہ مجھے نظر تو آتا نہیں کہ میں نے تجھے دیکھ کر کسی علامت علامت سے سے پہچان لیا ہو ہاں میں یہ جانتی ہوں کہ ایسے سختی کے کام تو حاجی ہی کیا کرتے ہیں۔ میں نے خود حج کے ایام میں دیکھا کہ 99 فیصدی حاجی اس قسم کے ہوتے ہیں جو حج کی اصل غرض سے محض نا واقف ہوتے ہیں۔ ایک ہندوستانی کوئیں نے دیکھا کہ عرفات کو جاتے ہوئے جبکہ لوگ نعرے لگا رہے تھے - اللهُمَّ بَنَيْكَ لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ - اس وقت وہ اردو کے عاشقانہ شعر پڑھ رہا تھا۔ میں پوچھتا ہوں کیا مسلمانوں کی یہ حالت کسی مصلح کے آنے کی متقاضی نہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا رحیم کریم انسان جو کسی کے کانٹا چبھنا بھی گوارا نہیں کرتا فرماتا ہے جو لوگ عشاء اور صبح کی نماز کے لئے مسجد میں حاضر نہیں ہوتے۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میں کسی کے سر پر لکڑی اٹھوا کر لے جاؤں اور میں ان کے گھروں کو آگ لگا کر ان کو جلا دوں ۔ (مسند احمد بن قبل جلد ۲ ۵۵ ) دیکھو اس وقت کے منافقوں کی یہ حالت تھی کہ وہ نمازہ تو پڑھتے تھے مگر ان میں اتنی سستی تھی کہ وہ عشاء اور صبح کی نماز کے وقت مسجد میں حاضر نہیں ہو سکتے تھے۔ مگر اس زمانہ کے مومن کہلانے والوں میں کتنے ہیں جو پانچوں نمازوں میں سے ایک بھی مسجد میں نہ کسی گھر پر پڑھتے ہوں ۔ پھر کیا یہ لوگ اسلام پر فخر کر سکتے ہیں یا یہ لوگ اسلام کو اپنے افعال سے ذلیل کرتے ہیں اور مومن کہلا کر اسلام کے لئے عار ہیں۔ کونسی بدی اور بدکاری ہے اور کونسی بداخلاقی ہے جس میں یہ مبتلا نہیں ۔ رشوتیں یہ لیتے ہیں ۔ جھوٹ یہ بولتے ہیں۔ سرحدی مسلمان سرحدی ہندوؤں کو لوٹتے ہیں ۔ ایک دوست نے لطیفہ سنایا کہ ایک غیر احمدی شخص ان کو ایک غیر احمدی مولوی کے پاس لے گیا اور کہا مولوی صاحب مجھے ایک ملازمت ملتی ہے جس میں میں رو پیر تنخواہ ہے مگر میرا خاندان بہت زیادہ ہے اس میں میرا گزارہ نہیں ہو سکتا۔ ہاں تنخواہ کے علاوہ اوپر کی آمدنی نشہ روپیہ ہے کیا میں یہ ملازمت اختیار کرلوں کوئی گناہ تو نہیں اور ساتھ ہی ایک روپیہ نذر کا پیش کیا۔ مولوی صاحب نے روپیہ لیکر جواب دیا کہ کیا حرج ہے کر لو معقول آمد ہے۔ نکاح پر نکاح پڑھنے کا پنجاب میں عام طور پر رواج ہے۔ ایک مولوی سے ہمارے حضرت خلیفہ المسیح نے پوچھا کہ تم نے یہ نکاح کیوں پڑھا؟ اس نے کہا کہ مولوی صاحب سن تو لیجئے میں نے کس طرح نکاح پڑھا ہے مجھ پر بڑا ظلم ہوا حضرت خلیفۃ المسیح الاول