انوارالعلوم (جلد 6) — Page 536
انوار العلوم جلد 4 ۵۳۶ تحفه شهزاده و لیز تاج برطانیہ کے زیر سایہ ہم خود اس مذہب کے خلاف جو ہمارے ملک معظم کا ہے تبلیغ کرتے ہیں اور ان کی اپنی قوم کے لوگوں میں ان کے اپنے ملک میں جا کر اسلام کی اشاعت کرتے ہیں اور کوئی نہیں وران کی قوم اپنے اگر کرتے کچھ نہیں کہتا اور ہم یقین کرتے ہیں کہ اس سلسلہ کی استقدر جلد اشاعت میں حکومت برطانیہ کے غیر جانبدار حکومت رویہ کا بھی بہت کچھ دخل ہے۔ سو حضور علی ! ہماری فرمانبرداری مذہبی امور پر ہے اس لئے گو ہم حکومت وقت کی پالیسی سے کس قدر ہی اختلاف کریں کبھی اس کے خلاف کھڑے نہیں ہو سکتے کیونکہ اس صورت میں ہم خود اپنے عقیدہ کی رو سے مجرم ہوں گے اور ہمارا ایمان خود ہم پر حجت قائم کرے گا ۔ حضور ملک معظم کی فرمانبرداری ہمارے لئے ایک مذہبی فرض ہے جس میں سیاسی حقوق کے ملنے یا نہ ملنے کا کچھ دخل نہیں جب تک ہمیں مذہبی آزادی حاصل ہے ہم اپنی ہر ایک چیز تاج برطانیہ پر نثار کرنے کے لئے تیار ہیں اور لوگوں کی دشمنی اور عداوت نہیں اس سے باز نہیں رکھ سکتی۔ ہم نے بار ہا سخت سے سخت سوشل بائیکاٹ کی تکالیف برداشت کر کے اس امر کو ثابت کر دیا ہے اور اگر ہزار ہا دفعہ پھر ایسا ہی موقع پیش آئے تو پھر ثابت کرنے کے لئے تیار ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ سے اُمید رکھتے ہیں کہ وہ بوقت ضرورت ہمیں اس دعوی کے ثابت کرنے کی اس سے بھی زیادہ توفیق دیگا جیسا کہ وہ پہلے اپنے فضل سے دیتا رہا ہے ۔ ہم اس امر کو سخت ناپسند کہ وہ کرتے ہیں کہ اختلاف سیاسی کی بناء پر ملک کے امن کو برباد کیا جائے ہمارا مذہب تو نہیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ اگر مذہبی ظلم بھی ہو تب بھی اس ملک کا امن برباد نہ کرو بلکہ اسے چھوڑ کرکسی دوسرے ملک میں چلے جاؤ ۔ لوگ ہمارے ان خیالات پر ہمیں قوم اور ملک کا بدخواہ کہتے ہیں اور بعض گورنمنٹ کا خوشامدی سمجھتے ہیں اور بعض بیوقوف یا موقع کا متلاشی قرار دیتے ہیں ۔ مگر اے شہزادہ میگیرم ! ہم لوگوں کی باتوں سے خدا کو نہیں چھوڑ سکتے ۔ دنیا ہیں کچھ کہے جبکہ ہمارے خدا نے ہیں یہ تعلیم دی ہے کہ ہم امن کو برباد نہ ہونے دیں اور صلح کو دنیا پر قائم کریں اور تمام نوع انسان میں محبت پیدا کر کے انہیں باہم ملا دیں تو ہم صلح اور محبت کا راستہ نہیں چھوڑ سکتے ہم ہر حال اپنے بادشاہ کے وفادار رہیں گے اور اس کے احکام کی ہر طرح فرمانبرداری کریں گے۔ حضور عالی ! آپ نے اس قدر دور دراز کا سفر اختیار کر کے جو ان لوگوں کے حالات سے آگاہی حاصل کرنی چاہی ہے جن پر کسی آئندہ زمانہ میں حکومت کرنا آپ کے لئے مقدر ہے ۔ اس قربانی اور ایثار کو ہم لوگ شکر اور امتنان کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور کوئی شخص جو ذرہ بھر بھی حق