انوارالعلوم (جلد 6) — Page 531
انوار العلوم جلد 4 ۵۳۱ تحفه شهزاده ویلیز دکھایا اور اس نے کمال محبت اور ہمدردی کے ساتھ دنیا کو امن کی طرف لانا چاہا اور جب لوگ باز نہ آئے تو پھر تمدید بھی کی اور کہا کہ : - اسے یورپ ! تو بھی امن میں نہیں اور اسے ایشیا تو بھی محفوظ نہیں اور اسے جزائر کے رہنے والو! کوئی مصنوعی خدا تمہاری مدد نہیں کریگا ۔ ہمیں شہروں کو گرتے دیکھتا ہوں اور آبادیوں کو دیران پاتا ہوں وہ واحد یگانہ ایک مدت تک خاموش رہا اور اس کی آنکھوں کے سامنے مکر وہ کام کئے گئے اور وہ چپ رہا مگر اب وہ ہیبت کے ساتھ اپنا چہرہ دکھلائے گا جس کے کان سننے کے ہوں سنے کہ وہ وقت دور نہیں میں نے کوشش کی کہ خدا کی امان کے نیچے سب کو جمع کروں پر ضرور تھا کہ تقدیر کے نوشتے پورے ہوتے میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس ملک کی نوبت بھی قریب آتی جاتی ہے۔ نوح کا زمانہ بھی چ کہتا ہوں کہ اس کی نوبت بھی قریب جاتی ہے کار تمہاری آنکھوں کے سامنے آجائیگا اور لوط کی زمین کا واقعہ تم بخشم خود دیکھ لو گے مگر خدا غضب میں دھیما ہے تو یہ کرو تا تم پر رحم کیا جائے جو خدا کو چھوڑتا ہے وہ ایک کیڑا ہے نہ کہ آدمی اور جو اس سے نہیں ڈرتا وہ مردہ ہے نہ کہ زندہ * مگر لوگوں نے پھر بھی توجہ نہ کی اور فاتح اور غالب اپنی فتح اور غلبہ کے گھمنڈ میں رہے اور مغلوب اور مفتوح اپنے دنیاوی شکووں کا رونا روتے رہے ۔ باوجود جگانے کے لوگ نہ جاگے اور با وجود بلانے کے لوگ نہ آئے اور با وجود خدا تعالیٰ کے جلوہ گر ہونے کے لوگوں نے اس کی طرف آنکھ اُٹھا کر نہ دیکھا اور باوجود اس کے ہوشیار کرنے کے وہ ہوشیار نہ ہوئے۔ پس اب اس نے ارادہ کیا ہے کہ اگر لوگ اس کے حق کو تسلیم نہ کریں گے اور اس کے دین کو قبول نہ کریں گے اور اس کے ماموروں پر ایمان نہیں لائیں گے تو وہ ان پر عذاب پر عذاب نازل کریگا اور ان کو دکھ پر دکھ پہنچائے گا اور اس وقت تک نہیں بانہ آئے گا جب تک وہ اس کے احکام کو قبول نہ کریں اور اس کی بادشاہت کو تسلیم نہ کریں جبکہ ادنے سے ادنئے حاکم پسند نہیں کرتا کہ لوگ اس سے منہ پھیر کر دوسروں کی طرف توجہ کریں تو وہ جو احکم الحاکمین ہے کب برداشت کر سکتا ہے ؟ جب تک خدا کا مرسل نہیں آیا تھا لوگوں کے لئے فیصلہ کرنا مشکل تھا مگر اب کسی کے لئے کوئی عذر باقی نہیں۔ سورج سر پر آگیا ہے اور اندھیرا جاتا رہا ہے اور وہ لوگ جو آنکھیں کھولتے ہیں خدا کے جلال کو دیکھتے ہیں۔ آہ ! لوگ نہیں سوچتے کہ جس کی یاد میں کروڑوں انسان گزر گئے اس کا زمانہ خدا تعالیٰ نے حقيقة الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۶۹