انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 525 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 525

انوار العلوم جلد 4 ۵۲۵ تحفه شهزاده ویلیز دنیا کی اصلاح کے لئے آپ کی ذریت اور آپ کی نسل میں سے ایک شخص کو کھڑا کرے گا جو آپ کے کام کو تکمیل تک پہنچائے گا اور یہ بھی کہ بادشاہ اور امیر آپ پر ایمان لائیں گے اور اسقدر الامیں ان میں پیدا ہو گا کہ وہ آپ کے کپڑوں سے برکت ڈھویں گے اور یہ بھی کہ جو بادشاہ ہیں آپ کی جماعت کی ترقی میں روک ہوں گی اور آپ کے دامن سے اپنے آپ کو وابستہ کرنا پسند نہ کریں گی وہ کائی جائیں گی اور ان کا نام صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعے سے دنیا میں عدل اور انصاف اور محبت کو قائم کرے گا اور خدا تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان ایک نہ رانصاف ں کے سے ٹوٹنے والا رشتہ قائم ہوگا اور لوگ اپنی سرکشیوں سے باز آجائیں گے اور نیکی اور تقوی کا زمانہ تو دنیا میں جاری ہو گا اور انسان اپنی پیدائش کے مقصد کو پانے گا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی غرض پوری ہوگی جو اس مرتبت کا رسول ہے کہ آپ با وجود اس شان کے جو خدا نے آپ کو دی اور جو دنیا نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کی اور آئندہ کرے گی اس کے غلام اور اس کے شاگرد ہیں ۔ سو مبارک ہیں وہ جوان نشانات سے جو پورے ہو چکے فائدہ اُٹھاتے ہیں اور خدا سے صلح کر کے اس کے غضب سے محفوظ ہوتے ہیں۔ اے شہزادہ بالا بخت ! آخر میں ہم آپ کو اس امر کی طرف توجہ دلاتے دعوت الی الاسلام میں کہ کوئی عزت نہیں مگر وہی جو خدا سے لے اور کوئی رشتہ نہیں گر جو اللہ تعالیٰ دے اور کوئی سکھ نہیں مگر جواللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہو پس ہم آپ کو اس صداقت کی دعوت دیتے ہیں جو خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کی طرف آج سے تیرہ سو سال پہلے بھیجی اور جیس کے قیام اور جس کے پورا کرنے کے لئے اس نے اس وقت مسیح موعود کو نازل کیا ہے بیشک مسیحی اقوام کے لئے یہ نہایت تلخ ہے کہ وہ انیس سو سال تک انتظار کرنے کے بعد مسیح کے وجود کو دوسرے لئے وہ کسی مذہب کے پیروؤں میں پائیں اور ان کی حمیت اور غیرت کو اس سے صدمہ پہنچتا ہے ۔ مگر مبارک رہی ہے کہ جو خدا کی مرضی کو قبول کرے اور اس کی حکمتوں پر اعتراض نہ کرے اور اپنی عزت اور اپنی غیرت اور اپنی خواہش پر اس کی رضا کو مقدم کرے کیونکہ اس کے لئے دائمی نجات ہے اور وہی ابدی خوشی کو پائے گا۔ پہلوں نے اپنی غیرت کو خدا کی مرضی پر مقدم کر کے کیا سکھ پایا کہ آئندہ اور لوگ پائیں گے ؟ بیو نے یونا کو ایلیاء تسلیم کرنا اپنی روایات کے خلاف سمجھا اور اللہ تعالیٰ کے منشاء کو قبول نہ کیا اور وہ آج تک مسیح کے انتظار میں ہیں ۔ انتظار کا وقت لمبا ہو گیا