انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 519 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 519

انوار العلوم جلد 4 ۵۱۹ تحفه شهزاده ویلیز کی شادی کا انتظام کرتا ہوا ہلاک ہوا ۔ اس کی موت پر آپ کے دشمنوں نے لکھا کہ مودی سعد اللہ سے پہلے ہی موجود تھا اس پیش گوئی کا اس لڑکے کے متعلق تو یہ اثر ہو گا کہ اس کے اولاد نہ ہو گی ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا وہ بھی بے اولاد ہے اور اللہ تعالیٰ کی طاقت اور قدرت کا ثبوت دے رہا ہے اور ثابت کر رہا ہے کہ خدا نسلوں کی زیادتی اور کمی پر بھی قبضہ رکھتا ہے ۔ زیادتی نسل کی مثال خود آپ کی اولاد ہے کہ جس کی نسبت کثرت سے آپ کو الہامات ہوئے تھے ۔ اسی طرح اور بہت سے لوگ جن کے اولاد نہ ہوتی تھی یا ہو کر مر جاتی تھی ان کے متعلق آپ کی دُعائیں قبول ہو کر ان کو اولاد ملی ۔ آٹھواں معجزه تقسیم بنگال آپ کے معجزات میں سے آٹھویں مثال کے طور پر ہم آپکی وہ پیش گوئی پیش کرتے ہیں جو آپ نے تقسیم بنگالہ کے متعلق کی جب تقسیم بنگالہ ہوئی اور بنگالیوں نے اس پر شور مچایا اور گورنمنٹ نے ان کی فریاد پرکان دھرے تو آپ کو اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ :- پہلے بنگالہ کی نسبت جو کچھ حکم جاری کیا گیا تھا اب ان کی دلجوئی ہوگی ۔ یہ العام اور فروری شاہ کو ہوا اور اس وقت کئی اخباروں اور رسالوں میں شائع کر دیا گیا ہرزمانہ جیسا کہ اسے شہزادہ والا جاہ ! آپ جانتے ہوں گے وہ تھا جبکہ گورنمنٹ اپنی پالیسی پر مصر تھی اور ہا کہ اسے والا جاہ ! جانتے ہوں وہ پر اپنے حکم کو واپس لینے کے لئے ہرگز تیار نہ تھی۔ بنگالی اپنا پورا زور لگا چکے تھے مگران کی تمام کوششیں اکارت جا چکی تھیں اور آخر وہ مایوس ہو کر بجائے تقسیم بنگالہ کے حکم کو بدلوانے کے اس ہوگئے تھے تو کو پہنچائیں اور ماہرین اس امر کا اس پر آمادہ ہو۔ ہو گئے تھے کہ گورنمنٹ کو نقصان پہنچائیں اور بڑے بڑے ماہرین سیاست اس امر کا اعلان کر رہے تھے کہ گورنمنٹ سے غلطی ہوئی ہے مگر اب اس حکم کو طے شدہ سمجھنا چاہئے اور زیادہ شور کرنا فضول ہے حتی کہ جس وقت یہ پیشنگوئی شائع ہوئی اس وقت بعض بنگالی اخبارات نے ہی لکھا کہ ہم بنگالی تو مایوس ہو چکے ہیں اور یہ شخص اس قسم کی باتیں لکھتا ہے ۔ مگر خدا تعالی کے بھیدوں کو کون سمجھ سکتا تھا وہ ان لوگوں کی امیدوں کے خلاف جو بنگال کے رہنے والے تھے اور جن کو شکایت تھی اور ان لوگوں کے ارادوں کے خلاف جن کے ہاتھ میں بظاہر اختیار تھا اپنے رسول کو بتا رہا تھا کہ بنگالیوں کی دلجوئی ہو جائے گی۔ اس الہام کے شائع ہونے کے بعد بھی متواتر یہ سوال پارلیمنٹ میں آیا اور گورنمنٹ سے متواتر تذکره صفحه ۵۹۶ و صفحه ۶۶۴ ایڈیشن چهارم