انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 502 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 502

انوار العلوم جامه 4 ۵۰۲ تحفه شهزاده ویلیز بالمقابل بلایا کہ وہ قسم کھا کر یہ اعلان کر دے کہ کیا فی الواقع حضرت عیسی علیہ السلام اب تک زندہ موجود ہیں ؟ اور اس کے لئے جامع مسجد دہلی جگہ مقرر کی گئی ۔ وقت مقررہ پر ہزار ہا لوگ آگئے اور بہت سے لوگ اپنی جھولیوں میں پتھر لائے اور بعض سونٹے لائے اور بعض چھریاں اپنے ہاتھوں میں لائے اور لوگوں نے شور مچایا کہ یہ سیمیت کا مدعی زندہ نہ جائے اور اتفاق یہ ہوا کہ اس وقت میشی کی طرح آپ کے ساتھ بھی صرف بارہ مرید تھے۔ مگر ان لوگوں نے قابل رشک نمونہ دکھایا اور ہر ایک شخص یہ خواہش کرتا تھا کہ کاش ! آج ہم خدا کے رسول کی راہ میں مارے جائیں اور جب لوگوں نے بجائے مولوی کو قسم کھانے پر مجبور کرنے کے بلوہ کر کے آپ کو قتل کرنا چاہا تو ان بارہ مریدوں نے آپ کے گرد حلقہ بنالیا اور وہ خدا کے شیر دل سپا ہی ان لوگوں سے جن کی تعداد دس ہزار سے بھی زیادہ تھی خائف نہ ہوئے اور نہ ان کے ہتھیاروں سے ڈرے۔ مگر سپر نٹنڈنٹ پولیس ایک سو سپاہیوں سمیت وہاں پہنچ گیا تھا ۔ اس نے لوگوں میں سے راستہ بنایا اور سپاہیوں کے حلقہ میں آپ کو باہر نکال لایا اور نہایت مشکل سے آپ کو گاڑی پر بٹھا کر گھر پہنچا یا۔ اس وقت لوگوں کے جوش کا اندازہ اس واقعہ سے ہو سکتا ہے کہ آپ کے خاندان کی بعض مستورات اپنے رشتہ داروں کے گھر میں ٹھہری ہوئی تھیں، صاحب خانہ کی نوکر عورت نے ان سے ذکر کیا کہ یہاں ایک جھوٹا مدعی آیا ہوا ہے میرا بیٹا بھی چھری لے کر گیا ہے تاکہ اس کو مار کر ثواب حاصل کرے اور وہ عورت بہت خوش تھی کہ اس کے بیٹے سے یہ کام ہو ۔ گوہ جانتی تھی کہ اگر اس کا بیٹا اپنے ارادہ میں کامیاب ہوا تو سرکاری قانون کے ماتحت پھانسی پائیگا اس عورت کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ عورتیں بھی آپ ہی کے ساتھ کی ہیں۔ ہو۔ تو وہ وہ گو آپ کو گھر پر سلامتی سے پہنچا دیا گیا مگر لوگ گھر پر حملہ کرنے سے بھی بانہ نہ رہتے تھے بعض زبر دستی اندر گھس جاتے بعض دھوکے اور فریب سے پولیس کے افسر بن کر اندر آجاتے۔ مگر آپ برابر خدا کا کلام لوگوں کو پہنچاتے اور کہتے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اسیروں کی آزادی کے لئے آیا ہوں اور وہ جو بوجھوں کے نیچے دبے ہوئے ہیں ان کو ان بوجھوں کے نیچے سے نکالنے کے لئے آیا ہوں جو خدا نے نہیں بلکہ آدمیوں نے ان پر لاد دیتے ہیں۔ میں اس لئے آیا ہوں نا گناہ کی ناپاکی پاک کر کے انسان کو خدا تعالیٰ تک پہنچا دوں اور تادلوں سے دنیا کی محبت سرد کر کے خدا تعالیٰ کا عشق ان میں پیدا کروں اور تا دنیا سے لڑائی اور جھگڑا اور کینہ اور بغض دور کر کے صلح اور امن اور محبت اس کی جگہ قائم کروں ۔ مگر لوگ آپ کی تقریروں میں شور کرتے اور بعض کھڑے