انوارالعلوم (جلد 6) — Page 501
انوار العلوم جلد 4 ۵۰۱ تحفه شهزاده و نیز لئے ایک دلیل ہوں گے اور گلی گھلی فتح کا موجب ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ خود ہی تمہارے در میان فیصلہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ حد سے بڑھنے والے اور چھوٹے کو کامیابی کا راستہ ے بڑھنے والے اور چھوٹے کو کامیابی کا راستہ نہیں دکھاتا ۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں کی پھونکوں سے بُجھا دیں اور اللہ چاہتا ہے کہ خواہ منکر اسے کسی قدر نا پسند کرتے ہوں وہ اپنے نور کو قائم کر کے دکھائے۔ (ازالہ اوہام حصہ دوم صفحہ ۳۴۲،۳۴۱ ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه (۴۴، ۴۴۲) یہ باتیں اس وقت لوگوں کو ایک مجنونانہ بڑ معلوم ہوتی تھیں اور لوگ دلوں میں ہنستے تھے کہ اس شخص کو کیا ہو گیا کہ ساری دنیا اس کی دشمن ہے اور سب مذاہب اس پر حملہ کر رہے ہیں ؟ اور اس کے ساتھ کوئی جتھا نہیں ۔ چند گنتی کے آدمی اس پر ایمان لائے ہیں اور اس کا نام شعر گمنامی میں پڑا ہوا ہے اور اس کی عمر آخر ہونے کو ہے اور یہ اس قدر زور سے دعویٰ کر رہا ہے کہ کیں غالب آؤں گا اور لوگ کثرت سے مجھ پر ایمان لاویں گے اور دُنیا کے کناروں تک میرے نام کو خدا مشہور کرے گا اور میں اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گا اور خدا سے دور جانے والوں کو خدا تعالیٰ کی طرف پھیر کر لاؤں گا۔ مگر آج جب کہ چالیس سال اس دعوے پر گزر گئے ہیں یہ پیشنگوئیاں پوری ہو کر دنیا کو حیران کر رہی ہیں۔ دنیا کے کناروں تک آپ کا نام مشہور ہو چکا ہے اور لاکھوں آدمی اس وقت تک ایمان لا چکا ہے ۔ جب به دعاوی اور خدا کی باتیں شائع کی جاتیں تو مخالف اور بھی زیادہ جوش میں آتے اور ان باتوں کو گھر اور بے دینی کی باتیں قرار دیتے اور لوگوں کو اور بھی زیادہ جوش دلاتے۔ اور ایک اور اور طرف تو گورنمنٹ کو توجہ دلاتے کہ یہ حکومت کا خیر خواہ نہیں بلکہ بدخواہ ہے اور موقع کی تلاش میں ہے اور دوسری طرف لوگوں کو کتے کہ یہ گورنمنٹ کا خوشامدی ہے اور جہاد کا منکر ہے ۔ اور ایسا ہوا کہ اپنے دعویٰ کے شروع میں آپ نے کچھ سفر اختیار کئے اور ان سفروں میں یہ حکمت تھی کہ آپ مسیح سے مشابہت اختیار کریں۔ جہاں جہاں آپ جاتے لوگ سخت مخالفت کرتے اور آپ کے مکان کے سامنے سارا دن بڑا بھاری مجمع رہتا اور لوگ ہر وقت اس بات پر آمادہ رہتے کہ آپ پر حملہ کریں لیکن گورنمنٹ کے انتظام کے ڈر سے کچھ نہ کر سکتے ۔ سب سے پہلے آپ لدھیانہ گئے اور یہاں اردگرد سے علماء نے اکٹھے ہو کر خوب لوگوں کو اکسا یا مگر ڈپٹی کمشنر نے ان کے سردار کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا تب شور دیا۔ پھر آپ دہلی گئے جو اس وقت دارالخلافہ ہے اور وہاں ہندوستان کے مولویوں کا جو سردار تھا اسے آپؐ نے