انوارالعلوم (جلد 6) — Page 480
انوار العلوم جلد 4 ۴۸۰ تحفه شهزاده ویلیز اب اسے شہزادہ ! دیکھو کہ کیا آج کل کے مسلمان اس مونٹی کی اُمت سے کسی علیحدہ قسم کے لوگ ہیں کہ ان میں سے مسیح پیدا نہیں ہو سکتا ؟ یہ کتنے بھی ظالم ہوں ان کے ظلم سے اسلام کی تعلیم پر کوئی یہ حرف نہیں آسکتا جس طرح مسیح کے زمانہ کے لوگوں کی خرابی سے موسیٰ علیہ السلام اور توریت پر تھوئی الزام نہیں آسکتا تھا ۔ وہ جو تعلیم کے خلاف چلتا ہے اپنا بوجھ آپ اُٹھائے گا اور اپنی قبر آپ کھورے گا اس کے اعمال سے خدا کے کلام اور اس کے دین پر کیونکر حرف آسکتا ہے ؟ اور وہ جو نوشتوں کی ناسمجھی سے ایک نیا عقیدہ بنا لیتا ہے اس کے عقیدوں سے نوشتوں پر کیسے اعتراض پڑ سکتا ہے ؟ کیونکہ کیا نہیں لکھا کہ صدوقی توریت سے ہی قیامت کا انکار نکالتے تھے ؟ اور ان کے علماء ایک دفعہ مسیح علیہ السلام کے سا۔ م کے سامنے بھی اس غرض سے پیش ہوئے تھے تا اس پر اپنے قول کی صداقت کو ظاہر کریں محمد اس نے ان : ان پر حجت کی اور ان کے منہ بند کر دیئے۔ پس قرآن کریم اور اسلام پرلوگوں کے اعمال اور ان کے غلط عقائد کی بناء پر کوئی زرد نہیں پڑ سکتی ۔ اسلام ایک نوکر ہے جس کے مقابلہ پر سب ادیان کی شمعیں ماند ہیں اور ایک سورج ہے جس کے آگے کوئی چراغ اپنی روشنی ظاہر نہیں کر سکتا۔ مگر افسوس کہ اپنوں اور بیگانوں نے اس سے منہ پھیر لیا اور اپنی آنکھیں بند کر لیں تا نہ ہو کہ اس کی ضیاء کو ان کی آنکھیں دیکھیں اور اس سے روشنی حاصل کریں اس کی مثال اس ہیرے کی سی ہے جسے ایک بچہ ایک جانورہ کی طرف پھینکتا ہے اور وہ اس سے ڈر کر بھاگ جاتا ہے وہ بچہ اس کو اس لئے پھینکتا ہے کہ وہ اسے حقیر اور بے قیمت جانتا ہے اور وہ جانور اس سے اس لئے بھاگتا ہے کہ سمجھتا ہے کہ یہ چیز اس نے مجھے صدمہ پہنچانے ہی کے لئے پھینک ہوگی۔ مگر نبیوں کا خدا قدوسوں کا قدوس جو آسمان پر اپنے تخت حکومت پر جلوہ افروز ہے پسند نہیں کر سکتا تھا کہ اس کا بھیجا ہوا نور اس بے قدری کی نگاہ سے دیکھا جائے سو اس نے اپنے پیارے کو بھیجا کہ مسیح ناصری کی طرح جس طرح وہ موسی کی کتاب کا پورا کرنے والا اور اسے ثابت کر سیوالا بنا یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم کا پورا کرنے والا اور اس کا ثابت کرنے والا ہو کی کا پورا کرنے والا او اور اس کی طبیعت اور اس کی قوت کے ساتھ دنیا میں کام کر کے اس کا نام پائے اور ابدالآباد تک خدا کے مشیح کے نام سے یاد کیا جائے تاکہ وہ بات پوری ہو جو کہی گئی تھی کہ :۔ اب سے تم مجھے پھر نہ دیکھو گے جب تک کہ کہو گے مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام پر آتا ہے۔ دستی باب ۲۳ آیت ۳۹ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء) سو وہی اور صرف وہی مسیح علیہ السلام کو دیکھ سکتا ہے جو اس بات پر یقین لائے کہ اس زمانہ