انوارالعلوم (جلد 6) — Page 473
انوار العلوم جلد 4 پورا نہ ہو۔ ٧٣ رمنی باب ۵ آیت ۱۸۰۱۷ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۰۱۸۷۰) تحفه شهزاده ویلیز پس معلوم ہوا کہحضرت مسیح عیہ السلام کا ایک کام موسیٰ کی شریعت کو قائم کرنا تھاکیونکہ وہ یں معلوم علیہ اپنی آمد کی غرض شریعت کو قائم کرنا بتاتے ہیں بلکہ اپنے حواریوں کو کم دیتے ہیں کہ اور لئے مانے فقیہ اور فریسی موسی کی گدی پر بیٹھے ہیں اس لئے جو کچھ دے تمہیں ماننے مانتو انا کو کہیں مانو اور عمل میں لاؤ دستی باب ۲۳ آیت ۲ ، نارتھ انڈیا بائبل سوسائی مرزا پور عبور ( ۶۱ ) اور دوسری غرض ان کی آمد کی جیسا کہ وہ خود فرماتے ہیں یہ تھی کہ خدا کی بادشاہت کی ماری کریں ۔ جیسا کہ لکھا ہے کہ مسیح نے اپنے دعویٰ کی ابتداء ہی سے یہ منادی کرنی اور یہ کہنا شروع کیا کہ توبہ کرو کیونکہ آسمان کی با دشا بہت نزدیک آئی ۔" امتی باب ہم آیت ۱۷ نارتھ انڈیا بائیل سو سائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء ) اور آخر زمانہ میں بھی وہ ہی کہتا رہا کیونکہ جب اس نے حواریوں کو تبلیغ کا کام سپرد کیا تو تب بھی ان کو یہی ہدایت دی کہ " چلتے ہوئے منادی کرو اور کہو کہ آسمان کی بادشاہت نزدیک آئی۔ رمتی باب ۱۰ آیت سے نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء ) اور جیسا کہ لوقا کی روایت کے مطابق یہ کہا کہ " ان سے کہو کہ خدا کی بادشاہت تمہارے نزدیک آئی " (لوقا باب ۱۰ آیت و ) * خدا کی بادشاہت سے مراد مسیح علیہ السلام کی آمد نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ وہ اپنی عمر بھر اس پر زور دیتے رہے کہ ان کی آمد ایسی ہے جیسے بیٹے کی آمدہ اور خدا کی آمد اس وقت ہو ہوگی گی جب لوگ ان کو پھانسی دے دیں گے۔ چنانچہ وہ اس واقعہ کو تمثیل میں یوں بیان کرتے ہیں :۔ کسی شخص نے ایک انگور کا باغ لگا کے اسے باغبانوں کے سپرد کیا اور مدت تک پردیس میں جا رہا اور موسم پر ایک نوکر کو باغبانوں کے پاس بھیجا تاکہ وے اس انگور کے باغ کا پھل اس کو دیں لیکن باغبانوں نے اس کو پیٹ کے خالی ہاتھ پھیرا ۔ پھر اس نے دوسرے نوکر کو بھیجا انہوں نے اس کو بھی پیٹ کے اور بے عزت کر کے خالی ہاتھ پھیرا ۔ پھر اس نے تیسرے کو بھیجا انہوں نے گھائل کر کے اس کو بھی نکال دیا تیب اس باغ کے مالک نے کہا کہ کیا کروں ؟ میں اپنے پیارے بیٹے کو بھیجوں گا شاید اسے دیکھ کر دب جائیں ۔ جب باغبانوں نے اسے دیکھا آپس میں صلاح کی اور کہا کہ یہ وارث نار تھے انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء