انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 472 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 472

انوار العلوم جلد و ۴۷۲ تحفه شهزاده و بلیز میں پہنچ چکی ہے اس کی کمیت اور کیفیت کو دیکھا جائے تو یہ بھی ایک روشن علامت ہو جاتی ہے کیونکہ اس وقت جس طرح عام طور پر بے دینی پھیلی ہوئی ہے اور لوگ مذہب کو ایک غیر ضروری چیز سمجھے ہوتے ہیں اور کسی ایک مذہب کے رہنماؤں کا اثر ہی کم نہیں ہوا بلکہ ہر مذہب کے رہنماؤں کا اثر اپنے پیروں پر کم نظر آتا ہے اس کی مثال پہلے کسی زمانہ میں نہیں ملتی۔ اس وقت اگر مذہبی پیشوائوں کا کوئی اثر آتا زمانہ ہے بھی تو صرف سیاسی امور تک محدود ہے پس یہ مذہب سے دوری اپنے اندر ایک خصوصیت رکھتی ہے۔ پیس جبکہ آسمانی نوشتے پورے ہو گئے تو ضرور ہے کہ مشیح بھی آچکا ہوا اور جو اس سے محبت رکھنے والے ہیں ان کا فرض ہے کہ وہ اس کی جستجو کریں تا ایسا نہ ہو کہ وہ آکر ان کو پکڑے اور کہے کہ کیا میرے آنے میں دیر ہو گئی تھی کہ تم نے سمجھ لیا کہ اب میں نہیں آتا اور سب باغ اور مکان اور جائدادیں تمہاری ہو گئیں اور تم اب جس طرح چاہو ان میں تصرف کرد ؟ اور اگر وہ اس کو تلاش کریں گے تو انکے لئے اس کا ڈھونڈنا کچھ بھی مشکل نہ ہو گا کیونکہ اس نے خود اپنے ظاہر ہونے کی جگہ بنادی ہوئی ہے اور کوئی بات نہیں جو اس نے چھپا رکھی ہو۔ کوئی نہیں کہ سکتا کہ جب اس نے زمین پر ظاہر ہونا ہے تو میں اسے کہاں ڈھونڈوں ؟ کیا اس نے نہیں کہا کہ جیسے بجلی پورب سے گوندھ کے کھیتیم یک چیکتی ویسا ہی ابن آدم کا آنا بھی ہو گا۔ امتی باب ۲۴ آیت ۲۷ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۶۱۸۷۰ ) پس ضرور ہے کہ جس طرح اس نے تمثیل میں نہیں سمجھایا ہے وہ مشرق میں ظاہر ہوا اور مغرب کے دور کناروں تک اس کی تعلیم پھیل جائے اور ایسا ہی ہوا بھی ہے۔ وہ ہندوستان میں جو مشرق کا ایک ہے اور قدیم سے علم اور فضل کا حامل ہے ظاہر ہوا اور بہت جلد اس کی تعلیم مغرب کے دور دراز ممالک میں پھیل گئی اور اس وقت ایشیائی ممالک کے علاوہ یورپ اور امریکہ کے بلاد میں بھی اس کی روشنی سے فائدہ اُٹھانے والے لوگ موجود ہیں۔ بائبل پر اگر ادنی سا بھی غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہی زمانہ مسیح کی آمد ثانی کا ہے کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :۔ یہ خیال مت کرو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتاب منسوخ کرنے کو آیا ۔ میں منسوخ کرنے کو نہیں بلکہ پوری کرنے کو آیا ہوں کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین مل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت کا ہرگز نہ مٹے گا جب تک سب کچھ