انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 436 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 436

انوار العلوم جلد 4 ۴۳۶ بستی باری تعالی اس سے پوچھ کر نکالتا ہے۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر وفات کے وقت یہ الفاظ تھے اللهُمَّ بِالرَّفِيقِ الأعلى اے خدا اب میں تجھ سے ملنا چاہتا ہوں ۔ ۔ صفات ات الہیہ سے واقف کی حالت جس کو صفات الہیہ سے کام لینے کا طریق معلوم ہو جاتا ہے اس کے سامنے ساری دنیا ، پیچ ہو جاتی ہے اور اگر خدا تعالیٰ کسی وجہ سے اس کے لئے اپنی ایک صفت جاری نہ کرے تو دوسری کھلی ہوتی ہے ادھر چلا جاتا ہے۔ مثلاً اگر اس پر موت آتی ہے اور خدا تعالیٰ استغناء کی وجہ سے اس کے لئے مکی صفت جاری نہیں کرتا اور مار ڈالتا ہے تو اس کی ملک کیوم الدین کی صفت بھی تو ہے اس لئے وہ دوسرے رنگ میں فائدہ اُٹھا لیتا ہے۔ پس خدا تعالٰی کا بندہ کبھی کسی بات سے نہیں گھبراتا اس کا رنج بھی خوشی کا پہلو رکھتا ہے اور خوشی بھی خوشی کا ۔ اگر مرتا ہے تو بھی وہ خوش ہوتا ہے اور اگر زندہ رہتا ہے تو بھی خوش ہوتا ہے ۔ اگر اس کا کسی سے جھگڑا فساد ہو جاتا ہے تو خدا کی صفت جبار کو بلاتا ہے کہ اے جبار ! اس جبار کی اصلاح کر دے اور خدا تعالیٰ اصلاح کر دیتا ہے اور پھر خواہ کس قدر دشمنی اور عداوت ہو خدا چونکہ ودود بھی ہے اس کے متعلق اس کے دشمنوں کے دل میں محبت پیدا کر دیتا ہے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَوْ انْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا الْفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَالكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ - (الانفال : (۱۴) کہ اگر تم دنیا کا سارا مال بھی خرچ دیتے تو لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا نہ کر سکتے لیکن اللہ نے ان کے دلوں کو آپس میں جوڑ دیا کیونکہ قلوب کا جوڑنا اسی کا کام ہے ۔ مؤمن کے وزراء پیس دیکھو موم کی کتنی عظیم الشان حکومت ہوتی ہے۔ دنیاوی بادشاہ تو چھ سات وزیروں سے کام لیتے ہیں لیکن مؤمنوں کے کم از کم نانو وزراء تو ہو گئے ۔ کیونکہ ننانوے صفات الہیہ جو عام طور پر مشہور ہیں یہ سب کی سب ان چیزوں کو جو ان کے ماتحت ہیں مؤمن کی خدمت میں لگا دیتی ہیں اور اس کا بوجھ ساری دنیا پر بانٹ دیتی ہے۔ مثلاً کبھی مومن کی خواہش ہو کہ دنیا کے کاموں سے فارغ ہو تو اس کے لئے خدا کی صفت وکیل ہے اسے کے کہ اے وکیل ا تو ہی میرے کام کر دے فوراً وہ صفت اپنے جلوہ سے ! بخاری کتاب المغازی باب آخر ما تكلم به النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں۔ اللهم التوفيق الاعلیٰ