انوارالعلوم (جلد 6) — Page 428
انوار العلوم جلد 4 ۴۲۸ ہستی باری تعالیٰ جس کو معلوم ہو کہ اس کی بیماری کا علاج ہے وہ دوائی لے کر استعمال کرے گا جس سے صحتیاب ہو جائیگا لیکن جس کو علاج ہی معلوم نہیں وہ گھر بیٹھا رہے گا اور اسی بیماری سے جس کا علاج کرا کر صحتیاب ہو سکتا تھا مر جائے گا۔ جیسے پہاڑی اقوام میں ہوتا ہے ان کے بیمار یونی معمولی بیماری سے مر جاتے ہیں کیونکہ کوئی علاج نہیں کرتے اسی طرح خدا تعالیٰ کی صفات کا علم رکھنے والے کے لئے ہرقت اپنی اصلاح اور روحانی ترقی کا دروازہ کھلا رہے گا لیکن جو ان صفات کا علم نہیں رکھتا وہ یونی ہاتھ پر ہاتھ دھر کے بیٹھا رہے گا اور روحانی ترقی کی طرف اس کی توجہ نہیں ہوگی ۔ ۔ دوسرا نفع یہ ہے کہ جب انسان خدا کا غیر محدود جلوہ دیکھتے ہیں تو معلوم کر لیتے ہیں کہ علوم کا کوئی احاطہ نہیں بلکہ علوم غیر محدود ہیں اور کوئی مسلمان یہ نہیں کہ سکتا کہ سائنس یا حساب یا ڈاکٹر یا انجینیرنگ میں جتنی ترقی ہوئی تھی ہو چکی ہے بلکہ وہ سمجھے گا کہ چونکہ یہ علوم غیر محدود ہستی کی طرف سے آئے ہیں اس لئے ان کی ترقی بھی کبھی ختم نہ ہوگی۔ یہ سمجھ کر وہ کسی علم میں ترقی کرنے سے پیچھے نہٹے گا۔ مسلمانوں نے غلطی کی ہے کہ یونانیوں کے پیچھے چل کر کہ دیا کہ فلاں علم بھی ختم ہو گیا اور فلاں بھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کا قدم تیرتی کی طرف سے ہٹ گیا اور آخر جہالت پیدا ہونے لگ گئی جو ایک جگہ ٹھہر جانے کا لازمی نتیجہ ہے۔ اگر وہ خدا تعالیٰ کی صفات پر غور کرتے تو آج ہرعلم کے سب سے بڑے عالم دنیا میں مسلمان ہی ہوتے ۔ پس خدا تعالیٰ کی صفات کے سمجھنے سے ایک عظیم الشان فائدہ یہ ہے کہ ایسا انسان کسی علم کو محدود نہیں قرار دے سکتا۔ کوئی مسلمان علوم کو محدود نہیں مان سکتا آپ میں اس امر کی مان سکتا اب میں اس امر کی مثالوں سے تشریح کرتا ہوں مثلاً لبعض بیماریاں ایسی ہیں کہ ان کے علاج معلوم تھے اور بعض کے نہیں ۔ اور آج سے پہلے بعض بیماریوں کے متعلق کہا جاتا تھا کہ لاعلاج ہیں حالانکہ لاعلاج کا لفظ ایک بے ہودہ لفظ ہے کیونکہ اگر خدا قادر مطلق ہے تو کوئی بیماری لاعلاج کس طرح ہو سکتی ہے ؟ ہاں اگر اس کے یعنی ہیں کہ لال بیماری کا علاج ہیں معلوم ہیں تو اور ؟ بات ہے ورنہ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ فلاں بیماری کا کوئی علاج ہی نہیں تو وہ مشرک ہے وہ خدا کو قادر مطلق نہیں مانتا۔ آج تک بعض بیماریوں کے متعلق لوگ لکھتے چلے آئے ہیں کہ لا علاج ہیں۔ لا علاج ہیں مگر محمد صلی اللہ علیہ سلم جنہیں یہ لوگ امی کہتے ہیں انہوں نے فرمایا ما مِنْ دَاءِ إِلَّا لَهُ دَوَاءُ إِلَّا الْمَوتَ ۔* مسند احمد بن قبل جلد ۴ ۲۷ پر حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں ۔ تَدادَوْا عِبَادَ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُنْزِلْ دَاءَ إِلَّا انْزَلَ مَعَهُ شِفَاءَ إِلَّا الْمَوْتَ وَالْهَرَمَ -