انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 427

انوار العلوم جلد 4 ۴۲۷ هستی باری تعالی ہے تو خدا کی حقیقی جلوہ گری کیوں نہ فائدہ دے گی ؟ تیرا فائدہ یہ ہے کہ خدا کی تجلی خارق عادت چیز ہوتی رویت الٹی کا تیسرا فائدہ ہے۔ ہوتی تو یہی ہے کہ بندہ دیکھ سکے گا اس کے ساتھ تو ایسی مگر ایسی تاثیر ہوتی ہے کہ وہ قلوب کو منور اور روشن کر دیتی ہے اور گویا مخفی اثرات کے ذریعہ سے قلوب کو صاف کر دیتی ہے پس رویت حقیقی کے بعد انسان اپنے اخلاق اور اپنی روحانیت کے اندر ایک نہایت ہی عظیم الشان تغیر پاتا ہے اور اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف جذب ہوتا ہوا محسوس کرتا ہے ہی الشان ہے اوراپنے کو تعالی کی ہوتا ہوا جیسا کہ انبیاء و اولیاء کا حال ہے یہ نتائج صرف رؤیت سے ہی پیدا ہو سکتے ہیں ۔ ہم خدا سے کس حد تک تعلق پیدا کر سکتے ہیں ؟ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا تعالی سے ہم کسی حد تک تعلق پیدا کر سکتے ہیں ؟ یہ سوال گو ہستی باری تعالیٰ کی تحقیق کی ابتداء میں بھی پیدا ہوتا ہے مگر اس وقت اس کا باعث علمی تحقیق کا خیال ہوتا ہے مگر مذکورہ بالا تحقیق کے بعد دوبارہ ہی سوال انسان کے دل میں اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ اب وہ عمل کے ساتھ خدا تک پہنچنا چاہتا ہے۔ اس مقام پر پہنچ کر گویا انسان کی ایسی حالت ہو جاتی ہے کہ جیسے کسی کے سامنے زمین و آسمان کے خزانے کھول کر رکھ دیئے جائیں اور وہ پوچھے کہ ان سے کیا فائدہ حاصل کروں اور کہاں اور کس طرح خرچ کروں نہیں اب ہم یہ بات حل کرتے ہیں کہ خدا کی صفات کے غیر محدود خزانوں سے ہم کیا فائدہ اُٹھا سکتے ہیں اور کس طرح فائدہ اُٹھا سکتے ہیں ؟ اور ان کے ذریعہ سے اپنی روحانی حالت کو کس حد تک درست کر سکتے ہیں ؟ خدا تعالیٰ کی صفات کے گہرے علم سے ہمیں کیا فائدہ ہوتا ہے ؟ پہلا فائدہ تو یہ ہے کہ جس بندہ کو خدا کی صفات کا علم ہو خواہ وہ ایک حرف بھی نہ پڑھا ہوا ہو دنیا کا بڑے سے بڑا سائنسدان بھی اس کے مقابلہ میں کچھ نہیں ہوتا ہپس پہلا فائدہ تو یہ ہے کہ ایسے شخص کے ہاتھ لیا میں علم کا خزانہ آجاتا ہے جب تک کسی چیز کا پتہ نہ ہو تو اس کو استعمال کرنے کا خیال نہیں آتا مثلاً اگر یہ معلوم نہ ہوکہ بخار کا کوئی علاج ہے تو انسان علاج کرانے کی کوشش ہی نہیں کرے گا لیکن جب معلوم ہو جائے کہ علاج موجود ہے تو علاج کرنے کی طرف بھی توجہ پیدا ہو گی تو خدا کی صفات کے خزانوں کے معلوم ہونے سے انسان کے خیالات ہی بدل جاتے ہیں۔ جس طرح ایک ایسا شخص