انوارالعلوم (جلد 6) — Page 415
انوار العلوم جلد 4 ۴۱۵ هستی باری تعالی رویت الٹی سے مراد کیا ہے ؟ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ دونوں جہان میں خدا کو دیکھنا نا کن ہے ان کو ہم کہتے ہیں تمہارے اس خیال کی بنیاد اس بات پر ہے کہ خدا وراء الوریٰ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ رویت الہی سے مراد کیا ہے ؟ آیا یہ کہ انسان خدا کی ذات پر محیط ہو جائے اگر یہ ہے تو ٹھیک ہے کہ اس طرح خدا کو کہیں بھی نہیں دیکھ سکتا۔ پھر رؤیت الٹی سے یہ بھی مراد نہیں ہو سکتی کہ خدا تعالیٰ کی صورت نظر آئے کیونکہ جو لوگ رویت کے قائل ہیں وہ خدا تعالیٰ کی کوئی صورت تسلیم نہیں کرتے ان کی مراد اگر رویت الٹی سے کچھ ہے تو میں کہ خدا تعالیٰ کی صفات تنزل اختیار کر کے تمثیلی صورت میں آتی اور انسان ان کا جلوہ دیکھتا ہے یا یہ کہ اپنے قلب میں انسان خدا تعالیٰ سے ایک ایسا روحانی اتصال پاتا ہے کہ اسے سوائے دیکھنے کے اور کسی چیز سے تشبیہ نہیں دے سکتا اور اس قسم کی رویت کو کوئی رد نہیں کر سکتا ۔ اس طرح اور کئی دے چیزوں کو انسان دیکھ لیتے ہیں ۔ مثلا علم اور حیا شکل اختیار کر کے آجاتی ہیں اور ہم دیکھ لیتے ہیں حالانکہ علم اور حیا معانی ہیں اجسام نہیں ۔ پس اگر خدا تعالیٰ کی بعض صفات اگر بطور تنزل بندے کے لئے متمثل ہوں یعنی تمثیلی زبان میں ان پر بندہ کو آگاہ کیا جائے تو یہ بات بندہ کے لئے اسی طرح مفید ہو گی جس طرح کسی وجود کا دیکھنا مفید ہو سکتا ہے اور اگر قلب پر صفات الہیہ کی تجلی ہو تو یہ بھی ویسی ہی بلکہ اس سے بھی بڑھ کر مفید ہوگی ۔ موٹی مثال ہے کلام اللہ نازل ہوتا ہے ہم اسے پڑھ جاتے ہیں اس کے بعد لفظ تو غائب ہو جاتے ہیں مگر ایک بات انسان کے اندر پیدا ہو جاتی ہے جو ہمیشہ اس کے ساتھ رہتی ہے پس معانی کا شکل اختیار کرنا کوئی بعید بات نہیں ۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کی صفات کو تصویری زبان میں دکھا دیا جانا بھی نا ممکن ہے ۔ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اگلے جہان میں خدا کی رویت ہو سکے حضرت موسی اور رویت النی کی اس جان ہی نہیں ہوسکتی وہ درج ذیل آیت کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں کہ وَمَا جَاءَ مُوسَى لِمِيقَاتِنَا وَكَلَّمَهُ رَبُّهُ قَالَ رَبِّ أَرِنِ انْظُرْ إِلَيْكَ قَالَ لَنْ تَرَانِي وَلَكِنِ انْظُرْ إِلَى الْجَبَلِ فَإِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهُ فَسَوْفَ تَرْنِي فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ وَكَا وَخَتَرَ مُوسَى صَعِقًا فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ سُبْحَنَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ (الاعراف: ۱۴۴) وہ کہتے ہیں دیکھو قرآن سے ثابت ہے کہ حضرت موسی خدا کے پاس گئے اور جاکر کہا اسے خدا مجھے اپنا وجود دکھا اللہ نے