انوارالعلوم (جلد 6) — Page 28
انوار العلوم جلد ۲۸ موازنہ مذاہب گالیاں دیتے ہیں اور لکھو کھا انسان عیسائی ہو چکے ہیں۔ مگر خدا تعالیٰ کو کوئی حمایت اسلام کا خیال نہ پیدا ہوا ۔ مسلمانوں کا ایک یہ خیال کہ حضرت عیسی زندہ ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے بینی ایک ایسا خیال ہے جو اسلام کو عیسائیت کے مقابلہ میں ٹھہر نے نہیں دے سکتا اور کوئی مسلمان واعظ عیسائیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔ جب وہ یہ کہتے ہیں کہ ہمارا عیسی زندہ ہے اور محمد فوت ہو گئے اس وقت مسلمانوں کی زبانیں بند ہو جاتی ہیں ۔ مگر حضرت مرزا صاحب نے ایسے وقت میں اسلام کی یہ خدمت کی اور اپنے شاگردوں کو ایسا تیار کیا کہ ان کے آگے سے پادری اس طرح بھاگے گئے ہیں جس طرح لاحول سے شیطان - عیسائیوں کے مقابلہ میں ہمارا ایک لڑکا چلا جائے تو پادری گھبرا کر وہاں سے چلے جاتے ہیں۔ احمدیت کا اثر میں نے ایک دوست کو عربی کی کمیل تو میں نے ایک دوست کو عرب کی تکمیل تعلیم کے لئے مصر بھیجا تھا۔ بھیجا تھا۔ وہاں ایک مسلمان قریب تھا کہ عیسائی ہو جائے ۔ وہ ان کو ملا اُنھوں نے تھا کہ ہو وہ ان کو ما اس میں وہ اور وہ ہے اس کو وفات مسیح کا مسئلہ سمجھایا۔ پھر وہ پادری کے پاس گیا اور گفتگو کی۔ وہ پادری بے اختیار بول اٹھا انتَ مِنَ الْقَادِيَانَ اور گفتگو کرنے سے انکار کر دیا ۔ دیکھو یا تو وہ وقت تھا کہ یورپ امریکہ سے لوگ ہمارے ملک میں عیسائی بنانے کے لئے آتے تھے یا اب ہمارے مبلغ ان ممالک میں اسلام کی تبلیغ کر رہے ہیں۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دنیا کا نقشہ ہی بدل دیا کہ یا تو مسلمانوں کو پادریوں کے آگے چھپنے کے لئے جگہ نہ ملتی تھی ۔ یا اب پادریوں کے لئے چھپنے کی جگہ نہیں یہاں تلوار نہیں طاقت نہیں محض خدا کی تائید ہے جو اپنا کام کر رہی ہے ۔ اب یورپ میں اس قسم کے لوگ پیدا ہو گئے ہیں۔ جو لکھتے ہیں کہ ہم نہیں ہوتے جب تک کہ حضرت مرزا صاحب پر درود نہ بھیج لیں اور سینکڑوں انسان عیسائیت سے نکل کر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کلمہ پڑھنے لگ گئے ہیں ۔ حضرت مرزا صاحب نے پیشنگوئی فرمائی ہے کہ اب اسلام کی ترقی آپ کے ذریعہ دنیا میں ہوگی اور باقی مذاہب آہستہ آہستہ مٹا کر اسلام ہی قائم کیا جائے گا ۔ اب ہم اس کے آثار دیکھ رہے ہیں ۔ میں نے حج کے دنوں میں ایحالت رویا آسمان پر ستاروں سے لکھا ہوا لا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ دیکھا تھا۔ تب میں نے اسی حالت میں اپنے نانا صاحب کو کہ وہ بھی میرے ہمراہ حج میں تھے کہا کہ وہ دیکھو اور پھر کہا آنے والے آئیں گے۔ پس یہ خدا کے وعدے پورے ہو رہے ہیں ۔