انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 27

انوار العلوم جلد 4 ۲۷ موازنہ ندا همپ خدا تعالیٰ اس کی خدمت اور حفاظت کیلئے کوئی پاک انسان مبعوث کرتا نہ کہ اٹا اس کو پاؤں تلے روندنے کے لئے نعوذ باللہ ایک اور دجال کو بھیجتا ۔ حضرت مرزا صاحب کو لوگ نہ مانیں ۔ انہیں گالیاں دیں ، انہیں بدتر سے بدتر ٹھہرائیں ۔ مگر اتنا تو سوچیں کہ خدا نے اسلام کے لئے کیا یہی کیا جبکہ اسلام ڈوب رہا تھا ایک اور ڈبونے والا بھیجدیا۔ محبت کا تو تقاضا یہ تھا کہ خدا اس کی حفاظت کے سامان کرتا اور اُسے دشمنوں سے بچاتا ۔ مشہور قصہ ہے ۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے حضور دو مهر مادری عورتیں جھگڑتی ہوئی آئیں ان میں سے ایک عورت کے بچے کو بھیڑ بیٹے نے بھیڑیئے کھا لیا ۔ وہ دوسری کے بچے کو اپنا بلاتی تھی اور کہتی تھی کہ اس کا بچہ مارا گیا ہے ۔ اس وقت معاملہ ۔ بہت ٹیڑھا تھا ۔ حضرت سلیمان نے کہا کہ چھری لاؤ۔ میں ابھی فیصلہ کرتا ہوں ۔ بچے کو کاٹ کر آدھا ایک کو دے دیتا ہوں اور آدھا دوسری کو ۔ اس وقت جس عورت کا بچہ تھا فوراً بے تاب ہو کر بول اٹھی کہ یہ بچہ میرا نہیں اسی کا ہے ، اسی کو دیدیا جائے مگر دوسری خاموش رہی ۔ حضرت سلیمان نے کہا کہ یہ بچہ اسی کا ہے جو کہتی ہے کہ میرا نہیں (بخاری کتاب الفرائض باب اذا ادعت المرءة ابنا ، کیونکہ اس کو اس سے ہمدردی پیدا ہوئی اور دوسری کو کچھ اثر نہ ہوا ۔ ہے پس مسلمان رسول اللہ کے بچے کہلاتے ہیں اور دین خدا کا ہے۔ مگر لوگ اس پر غالب آ رہے ہیں۔ اور دمبدم اس پر پتھروں کی بوچھاڑ کرتے رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں بجائے پتھروں سے بچانے کے خدا ایک اور پتھر پھینکنے والے کو بھیج دیتا ہے۔ کیا یہ ممکن ہے ، کیا یہ بات ہوسکتی ہے ۔ اس خیال کے لوگوں سے تو ہندہ ابوسفیان کی بیوی ہی زیادہ سمجھدار رہی جب اور عورتوں کے ہمراہ وہ آنحضرت لی اللہ علیہ وسلم کی بعیت کرنے لگی اور انضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک نہ کرنے کا اقرار کرایا تو بے اختیار بول اُٹھی کہ کیا ہم اب بھی شرک کرینگے حالانکہ ہم نے بتوں کی اس قدر مدد کی ۔ مگر ان سے کچھ نہ ہو سکا اور آپ اکیلے تھے مگر آپ نے خدا سے استدر نصرت پائی ۔ اگر یہ بہت پیچھے ہوتے تو آپ کس طرح کامیاب ہو سکتے تھے ۔ پس جب اسلام خدا کا پیارا ہے اور اس کی نصرت و حفاظت کا وعدہ ہے تو کیا وجہ ہے کہ کی و خدا بجائے اظہار محبت کے اس کو نقصان پہنچا رہا ہے ۔ اور اس کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں کرتا ۔ آج وہ لوگ جن کی ساری عزت ہی رسول کریم کی اولاد ہونے کے عام مسلمان اور احمدی باعث تھی، عیسائی ہوکر آنحضرت صل اللہ علیہ سلم کوکندری سے گندی