انوارالعلوم (جلد 6) — Page 401
انوار العلوم جلد 4 ۴۰۱ هستی باری تعالیٰ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تمہاری غلطی ہے کہ زمین و آسمان کتنے عرصہ میں نے ا و یا تو ان کی تیاری ہی سے کئے ؟ آسمان اور زمین چھ دن میں بنے۔ یوم کے معنے دن کے نہیں بلکہ وقت کے ہوتے ہیں۔ چونکہ دن وقت کا پیمانہ ہے اس لئے دن کے لئے بھی یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ہم تو سمجھتے ہیں کہ زمین و آسمان لاکھوں کروڑوں سال میں بنے کیونکہ موجودہ علوم اسی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اس پر غالباً کہا جائے گا کہ اس طرح تو اعتراض اور بھی مضبوط ہوگیا کیونکہ تم کتے ہو کہ زمین و آسمان لاکھوں کروڑوں سال میں بنے ہیں ۔ اس کا جواب ایک تو یہ ہے کہ کسی واقعہ کی موجودگی میں جس کی حکمت پہلا جواب سمجھ میں نہ آنے واقع پر اعتراض نہیں ہوسکتا۔ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ خدا تعالیٰ ہے اور اس نے اس دنیا کو بنایا ہے تو اس کا قادر ہونا تو ثابت ہو گیا باقی رہا یہ سوال کہ کیوں نہ اس نے ایک ہی منٹ میں بلکہ اس سے بھی کم میں دنیا کو پیدا کر دیا تو اس کی نسبت یہ کہا جائے گا کہ اس سے اس کی قدرت پر اعتراض نہیں پڑ سکتا زیادہ سے زیادہ یہ کہا جائے گا کہ اس امر کی حکمت ہماری سمجھ میں نہیں آتی ۔ دوسرا جواب دوسرا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے صرف زمین و آسمان کوہی آہستہ آہستہ پیدا نہیں کیا بلکہ وہ اس دنیا کی سب چیزوں کو اسی طرح پیدا کرتا ہے اور اس کی حکمت یہ ہے کہ ہر چیز اپنی اردگرد کی چیزوں سے مناسبت حاصل کر سکے تاکہ تمام چیزیں اس سے مل کر کام کر سکیں پس چیزوں کا آپس میں لگاؤ اور انس پیدا کرنے کے لئے اس نے ایسا کیا ہے۔ خدا تعالیٰ تو قادر تھا کہ فوراً کوئی چیز پیدا کر دیتا مگر ہمیں ضرورت تھی خدا فوراً کر کہ آہستہ آہستہ پیدائش ہوتا کہ ہم ایک دوسرے کو جذب کر سکیں جس طرح اگر اسپینج کو جلدی پانی جس اگر میں سے نکال لیا جائے تو وہ اچھی طرح گیلا بھی نہیں ہوتا پانی جذب کرنے کے لئے کچھ پانی میں رکھے رہنے کا محتاج ہے یا جیسے ماش کی دال بھیگنے کے لئے دیر تک پانی میں رہنے کی محتاج ہے پس یہ ویر خدا تعالیٰ کے ضعف کی وجہ سے نہیں بلکہ ہمارے ضعف کے سبب سے ہے۔ دیر تیسرا جواب تیسرا جواب یہ ہے کہ اگر اس کی قدرت فوراً پیدا کر دینے کا تقاضا کرتی ہے تو چاہئے تھا کہ ہر ایک چیز ہی فوراً پیدا ہو جاتی مگر ذرا دنیا میں اس قانون کو