انوارالعلوم (جلد 6) — Page 400
انوار العلوم جلد 4 ۴۰۰ هستی باری تعالی انسان مارا جاتا ہے اس کا اس کی بیوی بچوں پر کیا اثر پڑتا ہے مگر بگری ماری جائے تو اس کے بچے کو پروا بھی نہیں ہوتی اور اگر غم ہوتا بھی ہے تو صرف چند دن کا پھر انسان پر شریعیت کی پابندیاں ہوتی ہیں مگر دوسرے جانوروں پر نہیں ہوتیں۔ مخلوق کا پیدا کرنا خدا کے غنی کے خلاف نہیں صفات رحمت کے علاوہ خدا تعالیٰ کی صفت غناء پر بھی اعتراض کیا جاتا ہے اور وہ یہ کہ اگر خدا غنی ہے تو اس نے مخلوق کو پیدا کیوں کیا ؟ کیا وہ محتاج ہے کہ اسے مخلوق پیدا کرنے کی ضرورت پیش آئی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ایک فقیر کسی سخی کو کہ سکتا ہے کہ اگر میں نہ ہوتا تو تو سخاوت نہ کر سکتا اس لئے تو میرا محتاج ہے تو ایک بندہ بھی خدا کو کہہ سکتا ہے کہ خدا میرا محتاج ہے۔ مگر کبھی کسی نے نہ سنا ہو گا کہ کسی فقیر نے کہا ہو کہ فلاں ما ہو کہ فلاں سخی محتاج تھا جس ہے میں نے آٹھ تھا جس ہے میں نے آٹھ آنے یا چار آنے لئے اور تب جا کر اسکی احتیاج پوری ہوئی ۔ تعجب ہے کہ ایک شخص آٹھ آنے یا چار آنے لیکر تو کہتا ہے کہ یہ امر میری احتیاج پر دلالت کرتا ہے نہ دینے والے کی احتیاج پر مگر خدا کے متعلق انسان زمین و آسمان اور ان کے اندر جو چیزیں ہیں ان کو لیکر کہتا ہے کہ خدا میرا محتاج ہے میں نہ ہوتا تو یہ چیزیں کون استعمال کرتا ؟ دوسرا جواب یہ ہے کہ احتیاج اس چیز کی ہوتی ہے جو مستقل حیثیت رکھتی ہے اور جو ہماری اپنی صفت کا ظہور ہو وہ احتیاج نہیں کہلاتا ۔ مثلاً یہ احتیاج ہے کہ ایک ہمارا کام بغیر کسی اور شخص کی مدد کے نہیں ہو سکتا لیکن اپنی کسی صفت کا اظہار احتیاج نہیں ہے بلکہ اسے قدرت کہتے ہیں چونکہ خدا تعالی کسی غیر چیز کی مد دنہیں چاہتا وہ محتاج نہیں کہلا سکتا وہ تو اپنی قدرت ایک عالم کو پیدا کرتا ہے پس وہ محتاج نہیں بلکہ مقتدرہ ہوا اور اس نے ایک چیز پیدا کی اور اسے چن لیا اور اسے بزرگی دی۔ خدا تعالیٰ کی قدرت پر اعتراض اور اس کا جواب خدا تعالیٰ کی صفت قدرت پر بھی بالا می بایست ترا اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر وہ قادر مطلق ہے تو اتنی دیر میں کیوں پیدا کرتا ہے ؟ خصوصاً یہ اعتراض زمین و آسمان کی پیدائش پر یا جاتا ہے جس کی نسبت قرآن کریم میں آتا ہے کہ خدا نے زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کیا۔