انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 393

انوار العلوم جلد 4 ۳۹۳ هستی باری تعالی کسی جگہ زائد فضلہ جمع ہو جائے تو اس کا نام بیماری ہے دوسرے انسان کا جسم کچھ چیزوں سے مل کر بنا ہے ان میں سے اگر کوئی چیز اپنی مقدار کے لحاظ سے کم ہو جائے تو یہ بیماری ہے۔ تیسرے بیرونی چیزوں کے اثرات انسان پر پڑتے ہیں۔ مثلاً انسان کھاتا ہے، سانس لیتا ہے، سونگھتا ہے، پیتا ہے، اس کے جسم کا فعل کبھی تیز ہو جاتا ہے کبھی سست اسی کا نام بیماری ہے۔ فضلہ کی زیادتی سے بیماری اب ان امانی اب ہم ان کے متعلق الگ الگ بحث کرتے ہیں فضلہ کی پیدائش کیوں اور کس طرح ہوتی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پانی یا روٹی زیادہ کھا پی لے یا کوئی ایسی چیز کھا لے کہ جس کو معدہ منظم نہ کر سکتا ہو اور سدا بن جائے۔ جیسے گھر کی نالی میں جب کوئی اینٹ روڑا آجاتا ہے تو پانی باہر نہیں نکل سکتا اسی طرح پیٹ میں کوئی ایسی چیز ڈال لی گئی جو پھنس گئی۔ اب بیماری کے نہ ہونے کے کیا منی ہوتے کیا کہیں نہیں کہ اس کے جسم میں کبھی بھی فضلہ جمع نہ ہوتا جس کے دوسرے لفظوں میں یہ معنی ہیں کہ انسان خواہ کسی قدر بھی کھا جاتا اسے پہنچ جانا چاہئے تھا ۔ اب اس قانون کے ماتحت دنیا کو چلا کر دیکھو تو کس قدر جلد اس پر تباہی آجاتی ہے۔ اب تو یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص ایک حد تک کھا کر چھوڑ دیتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ گومنہ کو مزا آرہا ہے لیکن انجام کار اس کا نتیجہ اچھا نہیں نکلے گا اور جسم میں بیماری پیدا ہو جائے گی لیکن اگر زیادہ کھانے سے بیمار نہ ہوتا تو ایک ہی شخص سینکڑوں آدمیوں کا کھانا کھا جاتا اور پھر بھی سینہ ہوتا یا پھر یہ تجویز کی جاسکتی کہ انسان کچھ کھاتا پیتا ہی نہ جس کا یہ مطلب ہے کہ وہ ہر قسم کے تغیر سے محفوظ ہوتا اور گویا خدا ہوتا پھر روہ ہر سے ایسے انسان کی پیدائش کا مقصد کیا ہوتا ہے مگر اس کے علاوہ بھی میں کہتا ہوں کہ اس حالت کو فرض کر کے ذرا انسانوں سے یہ پوچھ کر تو دیکھو کہ اگر تمہیں سب مٹھی کھٹی نمکین چیزیں کھانے سے روک دیا جائے اور پھر تمہیں کوئی بیماری نہ ہو تو کیا اسے پسند کرو گے ؟ اس کا جواب وہ یہی دیں گے کہ یہ تو خود ایک بیماری ہے اس میں مبتلاء ہونا کون پسند کرے گا۔ یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے ایک ایسا شخص جو ناک کے ذریعہ بو کو بھی سونگھ سکے اور بدبو کو بھی اس کو کہا جائے کہ آؤ تمہاری سونگھنے کی قوت ضائع کر دی جائے تاکہ نہ تم خوشبو سونگھے سکو اور نہ بدبو وہ آدمی خوش نہیں ہوگا بلکہ اسے گالی سمجھ کر لڑنے پر آمادہ ہو جائے گا ۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ زیادہ کھانے کی کسی کو توفیق ہی نہ ملتی - جب کوئی شخص ایک یا دو یا تین یا چار روٹیاں حسب استعداد کھا لیتا تو فرشتہ آجاتا اور آکر اس کا ہاتھ پکڑ لیتا اور کہ دیتا کہ بس اب