انوارالعلوم (جلد 6) — Page 391
انوار العلوم جلد 4 ۳۹۱ بستی باری تعالیٰ کسی طرح عذاب آتا ؟ پس جس طرح خدا تعالیٰ کی رحیمیت کی صفت چاہتی ہے کہ بندوں پر جلوہ کرے اور انہیں آرام و آسائش پہنچائے ۔ اسی طرح اس کی شدید العقاب کی صفت کا جلوہ ہونا بھی ضروری تھا اور وہ اسی قسم کی چیزوں کے ذریعہ ظاہر ہو سکتی ہے جنہیں نقصان رسال سمجھا جاتا ہے ۔ خدا تعالیٰ کی اس صفت پر اعتراض کرنے والوں کی حالت تو ایسی ہی ہے جیسے شتر مرغ کے متعلق ایک مثال بنی ہوئی ہے کہ اسے کسی نے کہا تھا کہ تو مرغ ہو کر اڑتا کیوں نہیں ؟ کہنے لگا احمق کبھی اونٹ بھی اُڑا کرتے ہیں ؟ اس نے کہا اگر تجھے اونٹ ہونے کا دعوی ہے تو آپھر ہم تجھ پر بوجھ لا دیں۔ کہنے لگا کبھی پرندے پر بھی کسی نے بوجھ لادا ہے ؟ وہ اڑنے کے وقت اونٹ بن گیا اور کیا اور بوجھ لادنے کے وقت پرندہ یہی مثال ان لوگوں کی ہے۔ اگر خدا تعالیٰ میں رحم ہی رحم ہوتا تو کہتے اس میں سزا دینے کی طاقت کیوں نہیں ہے اور جب کہ اس میں سزا دینے کی طاقت بھی ہے تو کہتے ہیں یہ کیوں ہے ؟ یہ ہے کہ جب انسان عسر لیسر سے گذرتے وقت صبر و استقامت سے کام لیتا اٹھواں جواب ہے تو اس پر ترقی کے دروازے کھولے جاتے ہیں کیونکہ تمام ترقیات کے پانے کا ذریعہ تنگی اور مشکلات ہی ہیں، اور جو انسان ان میں سے کامیابی کے ساتھ گذرتا ہے وہی خدا کا قرب پا سکتا ہے۔ بیس اگر مشکلات نہ ہوتیں تو گویا انسان کو پیدا ہی نہ کیا جاتا کیونکہ اگر تکلیفیں نہ ہوتیں اور ان میں انسان نہ پڑتا تو اس کو خدا کے انعام کس طرح ملتے اور جس غرض کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے وہ کس طرح پوری ہوتی ۔ دیکھو سکولوں میں لڑکوں کو دوڑاتے ہیں اگر کوئی و سکولوں میں کو ہیں لڑکا نہ دوڑے تو اس کے لئے انعام کیسا ؟ دوڑنے میں بھی تکلیف ہوتی ہے۔ مگر جو دوڑتا ہے اس کو انعام ملتا ہے اور تکلیف کے مطابق ہی ملتا ہے پس خدا تعالیٰ کا قرب جیسا بڑا انعام ہے ویسی ہی بڑی اس کے لئے تکالیف بھی ہیں ۔ پھر کہتے ہیں جو لوگ اس طرح مرتے ہیں ان کے رشتہ دار کیا کہتے ہوں گے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ لوگ دوقسم کے ہوتے ہیں۔ یا تو خدا کو ماننے والے یا نہ ماننے والے ۔ ماننے والے تو کہیں گے کہ خدا کے قانون قدرت کے ماتحت اپنے عمل کے مطابق یا خدا کی خاص حکمت کے ماتحت مرنے والے نے جان دی ہے اور جو نہیں مانتے انہوں نے جب خدا کو مانا ہی نہیں تو انہوں نے کیا کہنا ہے وہ اپنے ذہنی قانون قدرت کو گالیاں دیتے ہوں گے۔