انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 385

انوار العلوم جلد 4 ۳۸۵ ہستی باری تعالی سے پیمائش کے بعد جو جگہ کھیت کی ثابت ہو وہ غلط ہو اور محض خیالی اور وہی مقام درست ہو ۔ اس مسئلہ میں جن مقامات کو ہم حدود برآری کے لئے چن سکتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی دوسری صفات ہیں اگر خدا تعالیٰ کی وہ صفات جن کے متعلق آریہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اس کے اندر پائی جاتی ہیں وہ اس امر امر کی تائید کریں کہ خدا تعالیٰ مادہ کا خالق ہے تو پھر ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ مادہ کا خالق ہے لیکن اگر وہ اس خیال کو رد کریں تو ماننا پڑے گا کہ وہ مادہ کا خالق نہیں ہے ۔ 6 خدا کی صفت علیم مادہ کے مخلوق ہونے پر دلالت کرتی ہے میں ان صفات میں سے جو میرے نزدیک اس سوال پر روشنی ڈالتی ہیں خدا تعالیٰ کی صفت علیم کو سب سے پہلے پیش کرتا ہوں آریہ لوگ بھی خدا تعالیٰ کو اس طرح علیم مانتے ہیں جس طرح کہ ہم مانتے ہیں وہ سلیم کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کو ہر اک بات کا علم ہے اور اس کا علم کامل ہے ۔ کیس خدا تعالیٰ کے خالق یادہ ہونے کے سوال کی میسیج مد براری کرنے کے لئے علم کامل ایسی صفت ہے جس پر کامل طور پر یقین کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ دونوں فریقی تسلیم کرتے ہیں کہ یہ غیر متبدل مقام ہے اس کے حقیقی ہونے میں کوئی شبہ نہیں ۔ اب اگر غور سے کام لیا جائے تو علم کامل کے معنے یہ ہیں کہ جس چیز کی نسبت علم کامل ہو اس کے بنانے کی بھی قابلیت ہو۔ چنانچہ سینکڑوں چیزیں جو پہلے طبعی قوانین کے ماتحت دنیا میں پیدا ہوتی تھیں ان کے متعلق یورپ والوں نے علم کامل حاصل کر کے ان کو بنانا شروع کر دیا ہے نہیں جسے پہلے بویا جاتا تھا جرمن والے اب اسے بنا رہے ہیں۔ عطر جو پہلے پھولوں سے بنائے جاتے تھے جرمن میں اب ان میں سے اکثر کیمیائی ترکیبوں سے بنائے جاتے ہیں کیونکہ خوشبو جن ترکیبوں سے پیدا ہوتی ا ایمان ترکیبوں کا ہی کیک شوی ہے وہ جرمن والوں کو معلوم ہوگئی ہے وہ مختلف ادویہ کو ملا کر جس پھول کی خوشبو چاہتے ہیں بنا لیتے ہیں۔ اسی طرح اور بہت سی چیزیں ہیں جو اب مصنوعی بننے لگ گئی ہیں ۔ جیسے ریشم وغیرہ غرض ان امور سے معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص کو کسی چیز کا کامل علم ہو وہ اس کے بنانے پر بھی قادر ہوتا ہے اس بات کے ثابت ہو جانے کے بعد اس میں کوئی بھی شبہ نہیں رہتا کہ اگر خدا تعالیٰ کو علم کامل ہے تو یقیناً وہ مادہ کے بنانے پر بھی قادر ہے اور اگر وہ مادے کے بنانے پر قادر نہیں تو اس کا علم بھی کامل نہیں پس صفت علم جو ہمارے اور آریوں کی مسلمہ ہے وہ اس امر کی تصدیق کرتی ہے کہ خدا تعالیٰ کو مادہ پیدا کرنے پر قادر ہونا چاہئے ۔