انوارالعلوم (جلد 6) — Page 384
انوار العلوم جلد 4 ۳۸۴ هستی باری تعالی خدا تعالیٰ کی نسبت آریہ بھی مانتے ہیں کہ بغیر مادہ کے ہے۔ ہمارا تجربہ بتاتا ہے کہ جب کوئی چیز کہیں رکھی ہوئی ہو تو وہ دوسری چیزوں کی راہ میں روک ہوتی ہے اور ان کے دائرہ کو محدود کر دیتی ہے۔ مگر باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ کے سوا روح اور یادہ کو بھی آر یہ مانتے ہیں پھر خدا تعالیٰ کو محدود نہیں مانتے۔ ان امور سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے متعلق ہم ان قوانین کو جاری نہیں کر سکتے جو مادہ اور روح کی حالتوں پر قیاس کر کے ہماری عقل تجویز کرتی ہے۔ جب یہ بات ہے تو یہ کس دلیل سے کہا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ مادہ کو پیدا نہیں کر سکتا ۔ اگر اس کی ذات ہماری عقلوں سے بالا ہے تو ہماری عقلوں کے ماتحت اس کے لئے قانون کس طرح بیان کئے جا سکتے ہیں۔ خدا تعالی مادہ کا خالق ہے یہ بات کہ خدا تعالی مادہ کا خالق ہے یا نہیں ؟ اس کا فیصلہ انسانی قواعد اور انسانی طاقتوں کو مد نظر رکھ کر نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے اور طریقی ہیں اور میرے نزدیک وہ ایسے سہل ہیں کہ ان پڑھ آدمی بھی ان کے زریعہ ے حق کومعلوم کر سکتے ہیں۔ دیکھو جب کبھی کی کھیت کی مینڈھ کے متعلق جھگڑا پیا ہو جاتا ہے ایک کہتا ہے میری زمین کی اس جگہ پر حد ہے۔ اور دوسرا کہتا ہے یہاں نہیں وہاں ہے تو اس کے فیصلہ کے لئے حدود براری کرایا کرتے ہیں۔ یہاں بھی مادہ کے متعلق جھگڑا پیدا ہو گیا کہ یہ آپ ہی آپ ہمیشہ سے ہے یا خدا نے اسے پیدا کیا ہے اس کے متعلق بھی حدود براری کرانے کی ضرورت ہے اور اس طریق کے اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو حدود برآری کے وقت استعمال کیا جاتا ہے زمین کی حدود برآری کے لئے یہی کرتے ہیں کہ ایک مستقل جگہ منتخب کرتے ہیں جو بدلنے والی نہ ہو مثلاً پرانا کنواں یا پرانا درخت کا غذات میں اس کی جو جائے وقوع درج ہو گی اسے اصل قرار دیگر حدود براری کریں گے اس کنویں یا درخت کے آگے جس قدر زمین سرکاری کاغذات میں لکھی ہو اس کے مطابق ناپ لیں گے پھر جس قدر زمین کسی کے قبضہ میں ثابت ہو اسے دے دیں گے ۔ اسی طرح صفات باری کے متعلق ہم غور کر سکتے ہیں یعنی ایسے امور کو لیکر جو مسلمہ ہیں ہم غور کریں کہ وہ مختلف فیہ مسئلہ کی کسی شق کی تائید کرتے ہیں۔ جس خیال اور رائے کی مسلمہ امور تائید کریں وہی تسلیم کرنی ہوگی کیونکہ یہ نہیں ہو سکتا کہ جس رائے کی دوسرے امور تائید کریں وہ غلط ہوا اور جس کی ہوسکا وہ ہو اور دوسرے امور تردید کریں وہ صحیح ہو۔ یہ اسی طرح ناممکن ہے کہ جس طرح یہ نا ممکن ہے کہ مختلف درختوں للبيت