انوارالعلوم (جلد 6) — Page 378
انوار العلوم جلد 1 ۳۷۸ هستی باری تعالی غرض خبل الورید اس جگہ انسان کی زندگی کے سہارے کے معنی میں آیا ہے۔ مگر اس کے غلط منے لے کر کچھ کا کچھ بنادیا گیا ہے ۔ اور یہ جو ان کی دلیل ہے کہ هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ - (الحديد : ۴) و ہی شروع ہے ہے اور وہی آخر اور وہی انا اندر ہے اور وہی باہر ہے۔ اس سے یہ است یہ استدلال ہوتا ہے کہ سب جگہ خدا ہی خدا ہے یہ دلیل بھی بالکل غلط ہے کیونکہ اول اور آخر اور ظاہر اور باطن چاروں الفاظ اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے سوا کچھ اور بھی ہے اگر غیر کوئی ہے ہی نہیں تو پھر اول کے اور آخر کنے کی کیا ضرورت تھی اور ظاہر کہنے اور باطن کہنے کی کیا ضرورت تھی پھر تو یہ کہنا چاہئے تھا که روہی وہ ہے اور اور کچھ کچھ نہیں نہیں۔ ۔ اس اس آیت کا صرف یہ مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ محیط ہے۔ یہ نہیں کہ سب کچھ اللہ ہی اللہ ہے۔ اندر اور باہر کے الفاظ بھی اور اول اور آخر کے الفاظ بھی احاطہ پر دلالت کرتے ہیں پس یہ آیت یہ بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کے ساتھ تمام چیزوں کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ آيت لِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ - (الرعد: ۱۶) کے معنی یہ ہیں کہ ہر چیز خدا کی فرمانبرداری کر رہی ہے۔ سجدہ کے اصل معنی فرمانبرداری کے ہیں اور زمین پر سر رکھنے کے منے مجاز بنتے ہیں اور فرمانبرداری کے لحاظ سے کوئی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے باہر ہے ؟ دنیا کا ایک ایک ذرہ خدا کی فرمانبرداری کر رہا ہے ۔ مثلاً زبان ہے اسے اگر میٹھا دو گے تو میٹھا چکھے گی اگر کڑوا رو گے تو کڑوا پچھلے گی یہ الگ بات ہے کہ وہ خدا کا انکار کر دے۔ مگر جو کام خدا نے اس کا مقرر کیا ہے اسے نہیں چھوڑ سکتی اور اس میں نافرمانی نہیں کر سکتی ۔ باقی رہا یہ کہ انسان سکی اوراس میں نہیں کرسکتی۔باقی رہا کہ انان خدا کی نافرمانی بھی کرتا ہے سو سوال یہ ہے کہ کس جگہ نافرمانی کرتا ہے وہیں جہاں خدا نے اسے مقتدرت دیگر امتحان کی غرض سے آزاد چھوڑ دیا ہے ہیں جس امر میں خدا تعالیٰ نے خود انسان کو مقدرت دیگر امتحان کے طور پر آزاد کیا ہے انسان کی اس نافرمانی کی وجہ سے ہم یہ ہرگز نہیں کہ سکتے کہ کوئی چیز خدا کی فرمانبرداری سے باہر ہے کیا ابوجہل اور فرعون خدا کے بنائے ہوئے قانون قدرت کی فرمانبرداری کرتے تھے کہ نہیں ؟ اگر کرتے تھے تو سب خدا کے فرمانبردار ہیں ۔ یہ لوگ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ سے بھی استدلال کرتے ہیں کہ جب خدا ہی سنتا اور دیکھتا ہے تو معلوم ہوا کہ سب کچھ خدا ہی خدا ہے ۔ کیونکہ سنتے اور دیکھتے ہم بھی ہیں ۔ اگر ہم خدا نہیں تو یہ آیت غلط ہو جاتی ہے ۔ حالانکہ اس آیت سے بھی یہ نتیجہ نکالنا غلط ہے کیونکہ جو چیز کسی کی دی ہوئی ہو