انوارالعلوم (جلد 6) — Page 376
انوار العلوم جلد 4 ٣٧٦ ہستی باری تعالیٰ رو ہر چیز کو الہ کنے والوں کے دلائل کا رو اب میں ان لوگوں کے دلائل کا رد بیان کرتا ہوں ۔ اول لا إِلَهَ إِلَّا الله کے وہ معنے جو یہ لوگ کرتے ہیں بالکل غلط ہیں الہ کے معنی انہوں نے زبر دستی سے کرلئے ہیں اور پھر لوگ ہیں کے نے زبردستی سے کر پر اپنے دعوی کی بنیاد رکھ دی ہے حالانکہ عربی میں اس لفظ کے دومین ہی ایک تو یہ ک کوئی معبود ہو سچا ہو یا جھوٹا دوسرے یہ کہ وہ معبود جو سچا ہو جھوٹا نہ ہو قرآن کریم میں ان دونوں معنوں میں یہ یہ لفظ لفظ استعمال ہوا ہے مگر مگر انہوں نے نے یعنی یہ معنی کے لئے لے لئے ہی ہیں کہ کہ کوئی جھوٹا معبود بھی نہیں حالانکہ جب قرآن کریم میں دوسری جگہوں پر صاف بیان ہے کہ لوگ خدا کے سوا اور معبودوں کی پرستش کرتے ہیں تو الہ کے معنے سنتے معبود کے سوا جائز ہی نہیں کیونکہ صحیح معنی وہی ہوتے ہیں جو بولنے والے کے منشاء کے مطابق ہوں۔ اب جو اللہ تعالیٰ دوسری جگہوں میں صاف الفاظ میں بیان فرماتا ہے کہ اس کے سوا بھی لوگ دوسروں کی پوجا کرتے ہیں تو لا اله الا اللہ کے یہ معنی نہیں کئے جا سکتے کہ اس کے سوا نہ کوئی جھوٹا معبود ہے نہ سچا بلکہ اس کے یہی معنے کئے جائیں گے کہ اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور ان معنوں سے ہرگز وحدت وجود کا مسئلہ نہیں نکلتا۔ اب کوئی کہے کہ جب اس لفظ کے دو معنی تھے تو وہی کیوں نہ مانے جائیں جو وحدت وجودی کرتے ہیں اور کیا اس طرح وہ کلمہ جس پر اسلام کی ساری بنیاد ہے مشتبہ نہیں ہو جاتا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایک لفظ کے مختلف معنی دیکھ کر ہر جگہ پر اس کے تمام معنوں کو استعمال کرنا درست نہیں ہو تا آخر قرآن کریم عربی زبان میں ہے اس زبان کے قواعد کے مطابق ہم فیصلہ کریں گے اور یہ بات کہ ہر لفظ کے ہر معنی ہر جملے میں استعمال نہیں ہوتے۔ عربی زبان سے ہی خاص نہیں با سب زبانوں کا یہ قاعدہ ہے کہ لفظ کے خواہ کتنے ہی معنے ہوں جب وہ عبارت میں آجائے تو اس کے وہی معنے کئے جاتے ہیں جو اس فقرے کے مضمون سے یا اس کتاب کی دوسری جگہوں کے مفہوم سے نکلتے ہوں نہ کہ تمام معنے جو اس لفظ کے لغت میں نکلتے ہوں ۔ اب چونکہ یہ ثابت ہے کہ قرآن کریم اس کا بار بار ذکر فرماتا ہے کہ مشرک خدا کے سوا اوروں کی پوجا کرتے ہیں تو جب وہ یہ فرماتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں تو ان دوسری آیتوں سے ملا کر اس کے یہی معنی ہوں گے کہ خدا کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور جب دوسری عبارتوں سے مل کر کلمہ کے معنی واضح ہو جاتے ہیں تو شک و شبہ کا سوال اُٹھ گیا۔ دوسری آیت یعنى رَجَعَلَ الْأَنْهَةَ الهَا وَاحِدًا - (ص : 4 ) کے بھی وہ معنے نہیں