انوارالعلوم (جلد 6) — Page 25
انوار العلوم جلد 4 ۲۵ موازنه ندا بسب کہ اسلام بھی سچا ہے ، خدا تعالیٰ بھی وہی ہے ، اس کے وعدے بھی پیتے ہیں ، اس کی طاقت میں بھی کوئی کمی نہیں آئی ، وہ اپنے وعدوں کو بھی نہیں بھولا بلکہ مسلمانوں نے اسلام کو چھوڑ دیا اور ان عقائد سے پھر گئے اور یہی اسلام کے پرستار ہو گئے ہیں جب انھوں نے حقیقی اسلام کو چھوڑ دیا تو خدا نے بھی پرستار ہو جب ان کو چھوڑ دیا ۔ ابھی چند سال گزرے ہیں کہ عوام میں مشہور تھا کہ قسطنطنیہ کے بادشاہ کے ساتھ یورپ کے بادشاہوں کے سفیر رکاب تھام کر چلتے ہیں لیکن آج قسطنطنیہ کی زندگی اور موت یورپ کے لوگوں کے قبضہ میں ہے۔ مسلمانوں کی حالت بگڑ گئی۔ جیل خانے ان سے بھر گئے۔ فواحش کی ان میں گرم بازاری ہو گئی ۔ مسلمان اہل نہ رہے کہ خدا کے پس ان حالات کی وجہ سے مسلمان خدا کے اس وعد سے کے اہل نہ رہے کہ ان کو بلند کیا جائے۔ خدا تعالیٰ نے وعدے ان سے پورے کئے جائیں فرمایا تھا کہ انکے گھر میں نبی و محمد صبح شام ہوگی اور ذکر اللہ سے ان کی زبانیں تو اور سینے پر ہونگے۔ مگر آج کتنے مسلمان ہیں جو نماز پڑھتے ہیں اور کتنے ہیں جو سمجھ کر پڑھتے ہیں اور کتنے ہیں جو اس مقصد سے واقف ہیں جو نمازہ میں پوشیدہ ہے ۔ وہ شرائط جو خدا تعالیٰ نے بتائی تھیں ان میں پائی نہیں جاتیں اور یہ خدا تعالیٰ کے کلام کی اور خدا کے اسلام کی اور میں جائیں اور یہ خدا تعالی کے کام کی اور خدا کے خدا کی اور خدا کے رسول محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنگ کر رہے ہیں اس لئے کسی طرح خدا کے وعدوں کو پا سکتے ہیں۔ مسلمان جب تک خدا کی اخدا کے رسول کی اور اس کے کلام کی عزت نہیں پاسکتے خدا کرینگے ان کو کوئی عزت نہیں دی جائیگی ۔ ایک موٹا مسئلہ ہے اور اسی میں مسلمانوں کی مسلمان آن کی تنگ کر رہے ایک موٹا میلہ ہے اور اسی میں کر رہے ہیں حالت کا پتہ لگ جاتا ہے کہ وہ کیسے ہیں۔ مسلمانوں نے یہ مان لیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو خاک کے نیچے مدفون ہیں اور حضرت مسیح کو ذرا تکلیف پیش آئی تو خدا نے ان کو آسمان پر چڑھا لیا۔ اور ان کے دشمنوں کو انہیں ہاتھ تک نہیں لگانے دیا ۔میں کہتا ہوں اگر آسمان پر رکھے جانے کا کوئی اہل تھا تو وہ ہمارے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے لیکن یہ لوگ اس کو پسند نہیں کرتے اور انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ مدفون زیر زمین ہیں اور مسیح کے لئے بڑے پر جوش قلب سے کہتے ہیں کہ وہ آسمان پر ہیں۔ جب انھوں نے عیسائیوں کے مقابلہ میں حضرت نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اس طرح ہتک کی تو خدا تعالیٰ نے بھی ان کو ذلیل کر دیا اور فیصلہ کر دیا کہ جس طرح یہ