انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 341

الدار العلوم جلد 4 ۳۴۱ ہستی باری تعالی پہلے دہریت کار داپنی کتب میں کرنا چاہئے تھا مگر سب کتب دہریت کے متعلق خاموش ہیں حالانکہ مذہب کا سب سے بڑا دشمن یہ مسئلہ ہے پس مذہبی کتب کی خاموشی ثابت کرتی ہے که چونکه به کتب انسانوں نے بنائی ہیں اور ان کے زمانہ میں دہریت کے عقائد رائج نہ تھے وہ ان کا جواب دینے کی کوشش بھی نہیں کر سکے ورنہ جو مسئلہ سب سے بڑا ہے اسے بالکل نظرانداز کسی طرح کیا جا سکتا تھا۔ قرآن (کریم ، جو سب سے آخری کتاب کہی جاتی ہے وہ بھی اس مسئلہ میں بالکل خاموش ہے حالانکہ شرک کے رد میں اس میں بہت زور لگایا گیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ایسے علاقہ میں رہتے تھے جہاں دہریت کو ماننے والا کوئی نہ تھا اس لئے اس اس۔ کے متعلق انہوں نے کوئی ذکر نہیں کیا اور شرک کے متعلق بہت کچھ بیان کر دیا کیونکہ ۔ ان کے چاروں طرف مشرک ہی مشرک تھے ۔ دوسرے مذاہب سے مجھے اس وقت سرو کار نہیں اسلام کے متعلق یہ اعتراض غلط ہے ۔ حدیثوں ائے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دہریت کے متعلق علم تھا۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے جبکہ لوگ کہیں گے دنیا کو کس نے بنایا ؟ جب بتایا جائے گا کہ خدا نے تو وہ پوچھے گا کہ خدا کو کس نے بنایا ہے ؟ اور یہی وہ سوال ہے جو دہریت کے بانی سپنسر نے اپنی کتاب میں اُٹھایا ہے ہیں اس حدیث میں صاف ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے دہریت کے متعلق علم دیا ہوا تھا حالانکہ عرب دہریوں سے خالی تھا۔ اب میں یہ بتاتا ہوں کہ قرآن کریم میں اس اعتراض کو صاف لفظوں میں کیوں نہیں اُٹھایا گیا۔ یہ بات ظاہر ہے کہ اگر قرآن کریم انسانی طاقت سے بالا ثابت ہو جائے تو علاوہ اس کے کہ یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ خدا بھی ضرور ہے پس قرآن کریم کی سچائی ثابت ہو جانے کے ساتھ دہریت کا بالکل خاتمہ ہو جاتا ہے اور اس صورت میں اس کا ایک ایک لفظ دہریت کا رد بن جاتا ہے لیس دہریت کا سوال کوئی مستقل سوال نہیں ہے ۔ کلام الٹی کے سوال کے حل ہونے کے ساتھ یہ خود حل ہو جاتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کے ثابت کر دینے کے بعد کلام الہی کا سوال حل کرنا پھر بھی باقی رہ جاتا ہے لیس اللہ تعالیٰ نے وہی طریق اختیار کیا جس سے کہ دو سوال ایک دم حل ہو جاتے تھے یعنی قرآن کریم کے ایک بالا ہستی کی طرف سے نازل ہونے کا ثبوت دیدیا اور اس ثبوت میں دہریت کا جواب خود بخود آگیا پس یہ کہنا کہ شرک کا رد قرآن کریم مسند احمد بن حنبل جلد ۲ ص ۲۸