انوارالعلوم (جلد 6) — Page 330
انوار العلوم جلد 4 ٣٣٠ هستی باری تعالی پیشگوئیاں مخفی ہیں۔ اول یہ کہ ایک عظیم الشان جنگ ہونے والی ہے جو عالمگیر ہوگی دوسرے یہ کہ زار روس اس وقت تک با وجود ملک میں عام بغاوتوں کے پائے جانے کے اپنی ملک کی حکومت پر قابض رہے گا ۔ تیسرے یہ کہ اس عالمگیر جنگ میں زار روس بھی حصہ لے گا۔ حصہ لے گا۔ چوتھے یہ کہ اس کے دوران میں ایسے سامان پیدا ہوں گے کہ اس کی حکومت جاتی رہے گی ۔ پانچویں یہ کہ وہ اس وقت مارا نہیں جائے گا بلکہ زندہ رہے گا اور اپنی مصیبت اور ذلت کو دیکھے گا جو معمولی نہ ہوگی بلکہ کامل ذلت ہو گی اب دیکھو کہ نو سال کے بعد جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت بھی ہو چکے تھے یہ پیشنگوئی کسی زور سے پوری ہوئی ایک ایک بات اسی طرح واقع میں آئی جس طرح کہ آپ نے بیان فرمائی تھی یہ کیساز بر دست نشان ہے ۔ اگر کوئی ذرا بھی سوچے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ یہ نشان ایک علیم ہستی کے وجود پر زبردست شہادت ہے ۔ روس کے بادشاہ کی کتنی بڑی طاقت تھی مگر اچانک ایسے حالات پیدا ہو گئے اور وہ اس طرح ذلیل ہوا کہ پتھر سے پتھر دل کو اس کے حالات سن کر رحم آجاتا ہے ۔ جب وہ معزول ہوا اس وقت وہ خود فوج کی کمانڈ کر رہا تھا اسے دارالسلطنت سے تار گئی کہ پیچھے ملک میں فساد ہو گیا ہے اس نے جواب دیا کہ لوگوں کو سمجھاؤ گورنر نے تار دی کہ لوگ سمجھانے سے نہیں بانہ آتے اس نے جواب میں تار دی کو سختی کرو اس پر گورنر کی تار آئی کہ سختی سے اور بھی جوش بڑھ رہا ہے ۔ اس پر زار نے جواب دیا کہ اچھا ئیں خود آتا ہوں۔ راستہ میں پھر تار ملی کہ فساد بڑھ رہا ہے زائر نے جوابا پہلے گورنر کو بدل کر دوسرے گورنر کے مقرر کئے جانے کی ہدایت بھیجی۔ ابھی راستہ میں ہی تھا کہ اور تار ملی کہ حالت بہت نازک ہو گئی ہے اور آپ کا آنا مناسب نہیں مگر اس نے جواب دیا کہ نہیں میں آؤں گا ۔ ابھی تھوڑی ہی دور ریل چلی تھی کہ پھر تار ملی کہ بغاوت عام ہو گئی ہے مگر اس وقت بھی اسے یہی خیال تھا کہ میں جا کر سب کو سیدھا کرلوں گا اور اس نے ریل کو آگے لے جانے کا حکم دیا ابھی دو چار گھنٹے کا سفر طے کیا تھا کہ ایک سٹیشن پر اس کی ریل ٹھہرا لی گئی اور نئی حکومت کی طرف سے اس کی گرفتاری کے وارنٹ لیکر لوگ آپہنچے اور اسے گرفتار کر لیا وہ ایک زبردست بادشاہ کی حیثیت میں ریل پر چڑھا تھا ۔ ہاں ایسے زبر دست بادشاہ کی حیثیت میں کہ انگریزی حکومت بھی باوجود اپنی وسعت سے اس سے ڈرتی تھی لیکن ابھی اس کا سفر ختم نہ ہوا تھا کہ اسی گاڑی میں ایک معمولی قیدی کی حیثیت میں قید کیا گیا اس کے بعد اسے جس طرح دکھ دیئے گئے وہ نہایت ہی درناک ہیں غنڈوں نے اس کے سامنے اس کی لڑکیوں سے زنا بالجبر کیا اور اس کو مجبور کر کے یہ حرکات دکھاتے رہے اس سے اندازہ کر لو کہ زار کا حال کیسا حال