انوارالعلوم (جلد 6) — Page 318
: انوار العلوم جلد 4 ۳۱۸ ہستی باری تعالی کو ہلاک نہیں کرتا جھوٹے مذاہب کے ماننے والوں کو مار دینا چاہئے تھا یا ان سب کو ایک مذہب کا پیرو بنا دینا چاہئے تھا ۔ اس کا جواب خدا تعالیٰ نے آپ دیا ہے فرماتا ہے ۔ لَوْ شَاءَ اللهُ لَجَعَلَكُمْ امَّةً وَاحِدَةً وَالكِنْ لِيَبْلُوَكُمْ فِي مَا أَتَكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ (المائدة : ۴۹) اگر ہم چاہتے تو سب کو مجبور کر کے ایک مذہب پر لے آتے لیکن اگر اس طرح کرتے تو کسی کو ثواب نہ ملتیا اور جو عرض لوگوں کے پیدا کرنے کی تھی وہ پوری نہ ہوتی جس غرض کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے وہ بھی پوری ہو سکتی ہے کہ وہ آزاد ہو ۔ اس میں قبول کرنے کی اور رد کرنے کی دونوں قسم کی طاقتیں ہوں پس کو مجبور کر کے ایک مذہب پر لانا انسان کی پیدائش کی غرض کو بالکل باطل کر دیتا ہے اس لئے خدا ایسا نہیں کرتا ۔ پنے مذہب میں اختلاف بھی کہا جا سکتا ہے کہ چھ مان لیا کہ اختلاف مذاہب کی یہ وجہ ہے مگہ جو ند سب اپنے آپ کو سچا کرتا ہے ہی وجہ نہ اپنے آپ کی اس میں بھی تو اختلاف ہے مسلمانوں کو دیکھ لو کوئی کچھ کہتا ہے اور کوئی کچھ۔ اگر تم کہو کہ جس طرح پہلے دینوں میں لوگوں نے باتیں ملا دیں اسی طرح اس میں بھی ملا دی ہیں جس سے اختلاف ہو گیا ہے تو کوئی انسان اس کے متعلق ٹھوکر نہ کھاتا ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا کا کلام تو ایسا ہی ہوتا ہے جسے سارے انسان سمجھ سکتے ہیں لیکن بعض لوگ شرارت سے اور دھوکا دینے کے لئے اس سے کچھ کا کچھ مطلب نکالتے ہیں اور اس سے ان کی کوئی غرض وابستہ ہوتی ہے جیسا کہ اب آریہ کہتے ہیں کہ قرآن سے تناسخ ثابت ہوتا ہے روح و مادہ کی از لیست ثابت ہوتی ہے اور ممکن ہے کچھ عرصہ کے بعد یہ بھی کہ دیں کہ نعوذ باللہ قرآن میں نیوگ کی تعلیم بھی پائی جاتی ہے ضدی اور مہٹ دھرم لوگوں کو کون روک سکتا ہے جو چاہتے ہیں کہتے جاتے ہیں۔ پھر اختلاف کا دروازہ کھلا رکھنے سے ایک مقصد انسانی دماغ کی نشو و نما بھی ہے ۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اخْتِلافُ أُمَّتِی رَحْمَةً مُیری امت کا اختلاف رحمت ہے آپ کے اس قول کی وجہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے کلام میں کچھ باتیں محکمات کی قسم سے بیان کی ہیں اور کچھ متشابہات کی قسم سے۔ محکمات سے مراد یہ ہے کہ ان کے معنی کو ایک سے زیادہ کئے جائیں مگر وہ سب کے سب ایک رنگ میں رنگین ہوں اور متشابہات کا یہ مطلب ہے کہ ایسے *کنز العمال جلد - احدیث نمبر ۲۸۶۸۶ ص ۱۳۳ مطبوعه حلب ۱۹۷۱