انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 317

انوار العلوم جلد 4 ۳۱۷ هستی باری تعالی کی طرف سے مقرر ہے مگر لوگ اس میں ہزاروں قسم کی باتیں اپنی طرف سے ملا دیتے ہیں اس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ساری باتیں جو لوگ پیش کرتے ہیں قانون قدرت ہی ہے۔ مثلاً کوئی کہے کہ میں نے ایجاد کی ہے کہ لکڑی سے زندہ گھوڑا بنا لیتا ہوں یہ سن کر یہ نہیں کہا جائے گا۔ کہ قانون قدرت غلط ہو گیا ہے بلکہ یہ کہا جائے گا کہ جو کچھ وہ کہتا ہے وہ غلط ہے اور صحیح یہی ہے جو قانون قدرت کے ماتحت ہے کہ لکڑی کا زندہ گھوڑا نہیں بن سکتا ۔ پس وہ لوگ جو اپنی عقل سے باتیں بناتے اور پھر خدا کی طرف منسوب کر دیتے ہیں ۔ ان کے عقلی ڈھکوسلوں کا الزام خدا تعالیٰ پر عائد نہیں ہو سکتا بلکہ ان کی عقلوں پر عائد ہو گا اور ایسے لوگوں کے متعلق خدا تعالیٰ نے یہ قانون بنا دیا ہے کہ وَلَو تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ (الحاقة : ۲۰ تا ۴۷ ، اگر کوئی اللہ کی طرف اپنے پاس کے بات بنا کر جانتے بوجھتے ہوئے منسوب کر دے گا تو وہ اس کی رگ جان کو کاٹ دے گا اب کوئی خدا پر چھوٹا افتراء کر کے دیکھ لے۔ وہ لوگ جو خدا کے منکر ہیں وہی کھڑے ہو جائیں اور جان بوجھ کر ایسی باتیں بنا کر جنہیں وہ جانتے ہیں کہ خدا نے نہیں کہیں خدا کی طرف منسوب کریں کہ اس نے یہ باتیں کہی ہیں اور نہیں ان کی اشاعت کے لئے مبعوث فرمایا ہے پھر اصرار سے اس دعویٰ کی اشاعت کریں پھر دیکھ لیں کیا نتیجہ ہوتا ہے ۔ اختلاف زمانہ کی وجہ سے مذاہب میں اختلاف دوسرا جواب یہ ہے کہ ندا ہمب میں کچھ حصہ اختلاف کا زمانہ کی ضروریات کے ماتحت ہوتا ہے مگر دراصل وہ اختلاف نہیں کہلا سکتا ۔ مثلاً طبیب ایک نسخہ لکھتا ہے مگر جب مریض کی حالت بدل جاتی ہے تو دوسرا لکھتا ہے ۔ ان میں اختلاف نہیں کہا جا سکتا بلکہ ضرورت کے ماتحت جیسا مناسب تھا ولیا کیا گیا۔ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ طبیب کا کیا اعتبار ماتحت تھا لیا کہ کر کبھی کچھ دیتا ہے کبھی کچھ بلکہ سب جانتے ہیں کہ مریض کی اندرونی تبدیلی کی وجہ سے نسخہ بدلا ہے ۔ یہی حال دین کا ہے۔ جب بنی نوع انسان کی ذہنی حالت میں ارتقاء حاصل ہوتا ہے خدا تعالیٰ کی طرف سے نئی تعلیم ان کو مل جاتی ہے ۔ خدا ایک مذہب کیلئے سب کو مجبور کیوں نہیں کرتا اس موقعہ پر یہ سوال مای بھی کیا جاسکتا ہے ۔ کہ اچھا مان لیا کہ جو خدا پر جھوٹ باندھے اسے خدا ہلاک کر دیتا ہے لیکن اس کی کیا وجہ ہے کہ خدا جھوٹے مذاہب کے پیروؤں