انوارالعلوم (جلد 6) — Page 315
انوار العلوم جلد 4 ۳۱۵ هستی باری تعالی قلوب پر قبضہ زیادہ شکل اس موقع پر یہ بھی یادرکھنا چاہے کہ ہوا اور حالات کے ذریعہ جسموں پر غلبہ حاصل کرنا اور بات ہے اور قلوب پر قبضہ کرنا اور بات ۔ دلوں پر قبضہ کرنے کا کام نہایت مشکل کام ہے۔ کہتے ہیں ابن سینا کوئی مسئلہ بیان کر رہا تھا ایک شاگرد کو جو اس کی بات بہت پسند آئی تو جھوم کر کہنے لگا آپ تو محمد جیسے ہیں اگر چه ابن سینا فلسفی تھا اور دین سے اسے تعلق نہ تھا مگر آخر مسلمان تھا اسے یہ بات بہت بڑی لگی ۔ جہاں بیٹھے تھے اس کے قریب ہی ایک حوض تھا اور سردی کی وجہ سے پینج بن رہا تھا تھوڑی دیر کے بعد ابن سینا نے اسی شاگرد سے کہا کہ اس حوض میں کود جاؤ ۔ شاگرد نے کہا کیا آپ پاگل ہوگئے ہیں ؟ اس قدر سردی پڑرہی ہے اور اتنا ٹھنڈا پانی ہے اس میں گورنے سے تو میں فوراً بیمار ہو جاؤں گا ۔ اس پر ابن سینا نے کہا کہ کیا اسی برتے پر تو مجھے کہتا تھا کہ تو محمد جیسا ہے؟ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ہزاروں کو کہا آگ میں کود پڑو۔ اور کسی نے نہ پوچھا کہ ایسا کیوں کہتے ہو خوشی سے آگے بڑھ بڑھ کر اپنی جانیں قربان کر دیں اور تو میری اتنی سی بات نہیں مانتا اور با وجود اس کے مجھے حضور سے مشابہت دیتا ہے حالانکہ رسول کریم نے اپنی بات ان لوگوں سے منوائی جو آپ کے جانی دشمن تھے ۔ نفرض انبیاء با وجود بے سر و سامانی کے غالب ہوتے ہیں اور ان کے دشمن تباہ - اب ہی دیکھ لو کہاں ہیں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور کہاں ہیں حضرت مسیح موعود کے دوسرے دشمن ایک بڑا دشمن تمہارے سمجھانے کے لئے خدا نے رکھا ہوا ہے ۔ مگر اس کی بھی باری آجائے گی اور اس کا انجام ایسا عبرتناک ہو گا کہ مسیح موعود کے ماننے والے اسے بطور مثال کے پیش کیا کریں گے۔ نبی ہیں اس سلسلہ کی اس پیلی پیل پر یہ اس سلسلہ کی اس پہلی دلیل پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کیا بی نا کام بھی ہوتے ہیں کہ مہم کے بہ نبوت کا دعوی کرنے والے امام بھی تھے ہم ہیں۔ مثلاً میسیج کو مخالفین نے پکڑ کر سولی پر چڑھا دیا لیکن یہ ان کی ناکامی کی دلیل نہیں ہے بلکہ کامیابی کی ہے ۔ کیونکہ خدا نے انہیں بھٹی میں ڈال کر دکھا دیا کہ لَا غُلِبَنَّ انَا وَ رُسُلِی سچ ہے۔ اگر حضرت شیخ صلیب پر وفات پا جاتے اور آپ کا سلسلہ تباہ ہو جاتا تو بیشک یہ دعویٰ غلط ہو اتا میں اور جاتا مگر خدا نے آپ کو آگ میں ڈال کر اور پھر زندہ نکال کر دکھا دیا کہ خدا کے نبی پر کوئی غالب پھر نہیں آسکتا ۔ حضرت مسیح موعود نے بھی لکھا ہے کہ : که به جان آگ میں پڑ کر سلامت آنے والی ہے