انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 314

انوار العلوم جلد 4 امر الله هستی باری تعالی گردن ڈال دیتے ہیں۔ تو فرماتا ہے جاؤ میں نے تم سب کو معاف کر دیا ۔ کوئی یہ کہ سکتا ہے کہ اتفاقاً بعض کمزور لوگوں کو طاقت مل جاتی ہے مگر رسول کریم کے معاملہ میں فتح اور غلبہ اتفاقاً نہیں کہلا سکتا کیونکہ آپ نے اپنی کمزوری کی حالت میں پیشگوئی کر دی تھی کہ مجھے غلبہ لے گا اور پھر اس دعوی کے مطابق آپ کو غلبہ ملا اور پھر آپ کا غالب ہو کر اپنے دشمنوں کو معاف کر دینا بھی بتاتا ہے کہ ایک زبردست طاقت پر آپ کو یقین تھا اور کامل یقین تھا کہ میرے غلبہ کو کوئی شکست سے بدل نہیں سکتا بھی تو آپ نے ایسے خطرناک دشمنوں کو بلا شرط معاف کر دیا اس قسم کے غلبہ کی مثال دنیا میں اور کہاں ملتی ہے ؟ موجودہ زمانہ میں خدا کی صفت عزیز کا ثبوت پھر اسی زمانہ میں دکھو حضرت مسیح موعود زمانہیں خداکی صفتی ابو میں ھے علیہ اسلام کو خدا تعالیٰ نے کھڑا کیا جن کے متعلق مولوی محمد حسین بٹالوی نے جو اس وقت ہندوستان میں سے بارسوخ عالم تھے کہا کہ میں نے ہی محمد اس کو بڑھایا ہے اور میں ہی اسے تباہ کروں گا۔ مگر دیکھو کون مٹ گیا اور کون بڑھا مولوی محمد حسین گیا صاحب کا اب کوئی نام بھی نہیں لیتا حالانکہ یہی مولوی محمد حسین صاحب جب مسیح موعود علیہ السلام یہی کی مخالفت سے قبل کہیں جاتے تھے تو لوگ سڑکوں پر جمع ہو جاتے تھے اور کھڑے ہو ہو کر تعظیم کرتے تھے۔ غرض انہوں نے مخالفت کی اور سب کو مخالفت کے لئے بھڑکا یا شروع شروع میں گورنمنٹ بھی ناراض تھی کیونکہ آپ نے مہدی ہونے کا دعوی کیا تھا اور مہدی کے متعلق مسلمانوں نے جو غلط خیال بنائے ہوئے تھے ان کی وجہ سے گورنمنٹ آپ پر بہت بدطین تھی ۔ غرض ہر طرف سے آپ کی مخالفت ہوتی تھی مولویوں نے اپنی طرف سے زور لگانے میں کسر نہ رکھی اور عوام نے اپنی طرف سے کمی نہ کی۔ مگر خدا تعالیٰ نے یہ کہہ رکھا تھا کہ لا غلِبَنَّ أَنَا وَ رُسُلِی ہیں اور میرے رسول ضرور غالب ہو کر رہیں گے پھر اس کلام کے ماتحت دیکھو لوگوں کی مخالفت کا کیا نتیجہ نکلا ہی ناں کہ بہت سے ایسے لوگ جو شروع میں آپ کو گالیاں دیتے تھے آج لَا غُلِبَنَ أَنَا وَرُسُلِی کی رسی میں بندھے ہوئے یہاں بیٹھے ہیں لوگوں نے حضرت مسیح موعود کو کیا کیا دکھ نہ دیئے ۔ کیا کیا تکلیفیں نہ پہونچائیں آپ کے راستہ میں کیا کیا رکاوٹیں نہ ڈالیں ، مگر کیا کر لیا ؟ وہ جو غالب سمجھے جاتے تھے آخر مغلوب ہو گئے اور وہ جو بڑے سمجھے جاتے تھے چھوٹے ہو گئے اور اس طرح کا غلبن انا و رسیلی کی پیشگوئی پوری ہوئی۔