انوارالعلوم (جلد 6) — Page 305
انوار العلوم جلد 4 ۳۰۵ هستی باری تعالی ہے جس نے انسانوں میں خواہش رکھی ہے ۔ اس کا خیال ہے کہ خدا تعالی کی ہستی کی یہی ایک زبر دست دلیل ہے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ وہ مسیحی ہے اور سیمی تعلیم کے مطابق تو انسان کی فطرت مسخ شدہ اور گندی ہے پھر نہ معلوم وہ اس سے خدا تعالیٰ کی ہستی پر کس طرح استدلال کرتا ہے۔ یہ دلیل تو ایک مسلمان پیش کر سکتا ہے جس کی الہامی کتاب میں یہ دلیل آج سے تیرہ سو سال پہلے بیان کی گئی ہے اور جس کی الہامی کتاب انسان کی فطرت کو پاکیزہ اور لا انتہاء ترقیات کے قابل قرار دیتی ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ میں نے ایک چور سے پوچھا کہ چوری کا مال کھانا تمہیں برا نہیں معلوم ہوتا ؟ اس نے کہا بُرا کیوں معلوم ہو ۔ کیا ہم محنت کر کے نہیں لاتے ؟ فرماتے تھے میں نے اس بات کو چھوڑ دیا اور اور باتیں کرنے لگ گیا۔ پھر جب میں نے سمجھا کہ اب یہ پہلی بات بھول گیا ہو گا ۔ میں نے اس سے دریافت کیا ۔ اور باتیں کرتے کرتے کہا چوری کتنے آدمی مل نحمر کرتے ہیں ؟ اس نے کہا کم از کم چار پانچ ہوتے ہیں اور سنار کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے جو مال کو کھلا دے اور اس کی شکل بدل دے۔ آپ نے کہا کیا تم مال سنار کو دیدیا کرتے ہو ؟ اگر وہ اس میں سے کچھ مال کھا جائے تو کیا کرتے ہو ؟ اس پر وہ بے اختیار ہو کر کہنے لگا کہ اگر سنار ہمارا مال کیا جائے تو ہم ایسے بے ایمان کو مار نہ دیں ۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ فطرت انسانی کے اندر نیکی کا میلان اس طرح راسخ ہے کہ انسان خواہ کسی قدر بھی بگڑ جائے وہ میلان اس کے اندر باقی رہتا ہے اور جب بھی کسی محرک کے ذریعہ سے یا نقطہ فکر کے بدل دینے سے اسے زندہ کیا جائے وہ زندہ ہو جاتا ہے اور نئی طاقت کے ساتھ ظاہر ہو جاتا ہے۔ پس فطرت میں برائی سے نفرت اور نیکی کی خواہش کا ہونا بھی خدا کی ہستی کی بہت بڑی دلیل ہے ۔ اعتراضات کا جواب اس دلیل پر بی اعتراض کئے جاتے ہیں پہلا یہ کہ جن کو خلاق کہا جاتا ہے وہ فطری اخلاق نہیں بلکہ ورثے کے طور پر کچھ باتیں ہیں۔ وہ دورے کے طور پر بیا ہمارے ماں باپ نے تجربہ کر کے جن باتوں کو نقصان دہ پایا ان کو ہم بُرا سمجھتے ہیں اور جن کو مفید پایا ان کو اچھا ۔ مثلاً چوری ہے انسان جانتا ہے کہ میں نے کسی کا مال چرا یا تو وہ بھی ہمارے مال کو چڑا لے گا اور اس سے خواہ مخواہ کی پریشانی ہی ہو گی اس لئے اس خوف سے جو انسان کے دل میں اس فعل کے نتائج کے متعلق پیدا ہوا یہ بات اسے اچھی نہ نظر آئی اور آہستہ آہستہ یہ خیال بطور ورثہ کے اگلی نسلوں میں منتقل ہوتا چلا گیا۔ پس بدی سے نفرت در حقیقت اس تجربہ کا ورثہ ہے جو انسان کو اپنے آباء سے ملا ہے۔ اس کا اس کا فطرت انسانی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ کسی بالا ہستی نے یہ میلان انسان تھے