انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 299

انوار العلوم جلد 4 ۲۹۹ هستی باری تعالی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ حالانکہ جو چیز غیر مادی ہو اس کے متعلق ہم ماری قوانین کو جاری نہیں کر سکتے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض صورتوں میں ایک مادی چیز کا قیاس دوسری مادی چیز پر بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ پس مادی چیز کا غیر مادی پر قیاس تو بالکل قیاس مع الفارق ہے ۔ مثلاً پانی ہے اسے اگر گول برتن میں ڈالا جائے تو گول ہو جاتا ہے اور اگر چھٹے برتن میں ڈالا جائے تو چیٹا۔ اس پر قیامیں کر کے اگر کوئی کہے کہ لوہا کیوں اس طرح نہیں ہوتا تو ہم اسے یہی کہیں گے کہ یہ قانون پانی کے لئے ہے لوہے کے لئے نہیں ۔ یا اگر کوئی کہے کہ پانی اپنی ایک ہی شکل کیوں نہیں قائم رکھتا جس طرح لوہا رکھتا ہے تو اس سے بھی یہی کہا جائے گا کہ یہ بات لوہے سے تعلق رکھتی ہے پانی سے نہیں۔ پس جب ایک مادی چیز کا قیاس دوسری مادی چیز پر بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ تو ایک یادی چیز کو غیر مادی شے پر کس طرح قیاس کر سکتے ہیں۔ چونکہ دنیا میں ہمیں کوئی چیز ایسی نظر نہیں آتی جو آپ ہی آپ ہو۔ اس لئے ہم سمجھ لیتے ہیں کہ کوئی چیز آپ ہی آپ نہیں ہو سکتی، لیکن جو اشیاء کہ مادی نہیں ہیں ان کے متعلق ہم کوئی ایسا قانون مادی اشیاء کی بناء پر نہیں بنا سکتے اور نہ ان کی کیفیت اور حقیقت ہمارے تم ذہن میں آ ہیں آسکتی ہے ۔ اگر ہم یہ مائیں کہ دنیا آپ ہی آپ بن گئی ہے تو اس پر یہ یہ سوال بے شک پڑیگا کیونکہ مادہ کے متعلق ہمیں تجربہ سے معلوم ہو چکا ہے کہ اس کے تغیرات یا اس کی پیدائش آپ ہی آپ نہیں ہوتے بلکہ سبب اور مسبب کا قانون اس پر حاوی ہے پس ہم یہ ہرگز نہیں مان سکتے کہ مادہ آپ ہی آپ ہو گیا یا یہ کہ مادہ سے آپ ہی دنیا بن گئی۔ آخری اعتراض کہ اگر کوئی اس دنیا کا پیدا کرنے والا ہے تو وہ غنی ہونا چاہئے اور اگر غنی ہے تو وہ علت کیونکر بنا ۔ یہ سوال جس طرح خدا کے وجود پر پڑتا ہے اس طرح دنیا پر۔ کیونکہ اگر وہ محتاج ہے تو آپ ہی آپ کیونکر ہوئی ہے اور اگر غنی ہے تو اس میں تغیر کیونکر ہوا اور وہ اس شکل میں کس طرح بدل گئی اور اگر اس شکل کے باوجود دنیا کو آپ ہی آپ مانا جا سکتا ہے تو کیوں اس کا خالق ایک اور وجود کو نہیں مانا جا سکتا ۔ دنیا کے بنے کا طریق یہ معلوم ہونے پر خدا کے ماننے کا فائدہ یہاں پہنچ کر کریں اور پہلو بدلتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اچھا چلومان لیا کہ خدا ہے، مگر یہ بات کہ دنیا کس طرح بنی یہ تو حل نہ ہوا۔ پھر خدا کے ماننے کا کیا فائدہ ہوا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ا یہ اعتراض پیدا ہی ایک غلط خیال سے ہوا ہے کہ خدا تعالیٰ کی تلاش اس لئے کی جاتی کہ