انوارالعلوم (جلد 6) — Page 298
انوار العلوم جلد 4 ۲۹۸ ہستی باری تعالی ہوں کہ پہلی اور دوسری توجیہ پر جو اعتراض کئے گئے ہیں ایک حد تک درست ہیں لیکن تیسری توجیہ کے متعلق جو کچھ کہا گیا ہے وہ محض ایک دھوکا ہے کیونکہ جب کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا کسی کی پیدا کردہ ہے تو اس سے ہر گز یہ مراد نہیں ہوتی کہ وہ ایک مکان کی طرح بنائی گئی ۔ بلکہ اس سے مراد یسی ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایک مادہ پیدا کیا ۔ اور اس میں ایک قانون کو جاری کیا تاکہ اس کے مطابق وہ ترقی کرے پیس ارتقاء ہرگز دنیا کی پیدائش کے خیال کے مخالف نہیں بلکہ صالح کی نادر شفت گری پر دلالت کرتا ہے اور ہر مکڑہ اس ارتقاء کا ! اور ہر مکڑہ اس ارتقاء کا اپنے خالق پر دلالت کرتا ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ کسی اور کو خالق ماننے کی صورت میں یہ سوال پیدا ہو گا کہ اس نے مادہ کہاں سے لیا ؟ اس کا جواب میں آگے چل کر دوں گا ۔ فی الحال اتنا کہنا کافی ہے کہ اگر خدا کو نہ مانا جائے تو بھی یہ سوال باقی رہتا ہے کہ مادہ کہاں سے آیا۔ پس جب یہ سوال دنیا کو خود بخود مان کر بھی باقی رہتا ہے تو پھر یہ خدا کے وجود کے لئے بطور شبہ کے پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ رہا یہ سوال کہ فضاء کو کس نے پیدا کیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ وہمی وجود ہے جو ہمارے دماغ سے تعلق رکھتا ہے ۔ خدا سے کوئی تعلق نہیں رکھتا ۔ فضاء اور جہات نسبتی امور ہیں اور ان کا تعلق یا مادہ سے ہے یا دماغ سے۔ پس ان کی بحث خدا تعالیٰ کے سوال میں آہی نہیں سکتی۔ اور یہ جو سوال ہے کہ خدا محدود ہے یا غیر محدود ۔ یہ لغو سوال ہے۔ کیونکہ اگر یہ مانیں کہ دنیا آپ ہی آپ ہے تو یہ سوال دنیا پر بھی پڑے گا کہ وہ محدود ہے کہ غیر محدود اور دونوں ممکن صورتوں میں سے کسی ایک کو ماننا مشکل ہوگا اور اس پر بہت سے اعتراض پڑیں گے پس اگر دنیا کے آپ ہی آپ ہونے کی صورت میں بھی بلکہ قطع نظر اس کی ابتداء کے سوال کے اس کی موجودہ صورت میں بھی اس پر یہ اعتراض پڑتا ہے کہ وہ محدود ہے کہ غیر محدود جو دونوں صورت میں ناممکن ہیں تو پھر یہی سوال اگر خدا تعالیٰ کو مان کر پڑے تو اس میں کیا حرج ہے۔ ہم کہیں گے کہ دنیا کی پیدائش کی کوئی صورت بھی فرض کریں یہ اعتراض قائم رہتا ہے اس لئے معلوم ہوا کہ یہ اعتراض نہیں ہے بلکہ ایسا سوال ہے کہ جیسے انسانی دماغ سمجھ ہی نہیں سکتا۔ یا یہ کہ وہ نقطہ نگاہ ابھی دریافت نہیں ہوا جس کی مدد سے اس سوال کو حل کیا جاسکے ۔ اور ان دونوں صورتوں میں اس دنیا کا خالق کسی وجود کو ماننا خلاف عقل نہیں کہلا سکتا ۔ اب میں چوتھے سوال کو لیتا ہوں کہ اگر اس دنیا کو خدا نے پیدا کیا ہے تو پھر خدا کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ خیال کہ خدا کے پیدا کرنے والا بھی کوئی ہونا چاہئے مادی تجربات کی