انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 295 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 295

انوار العلوم جلد 4 ۲۹۵ هستی باری تعالی والا آسمان اور یہ زمین جس میں راستے بنے ہوئے ہیں۔ ان کو دیکھ کر کیوں نہ سمجھوں کہ خدا ہے ؟ یہ دلیل جو ایک بدوی نے دی پہلے لوگوں کی عقل یہاں تک ہی پہنچی ہے ۔ دنیا ایک بڑا مقام ہے جس کے پیدا کرنے والا کوئی ہونا چاہئے ۔ یہ خیال ان کے لئے کافی تھا ۔ یہ دلیل گو ہے تو صحیح مگر اس پر اعتراض بھی بہت سے پڑتے ہیں لیکن چونکہ عام دلیل ہے اور حقیقتا صحیح ہے اس لئے قرآن کریم نے بھی اس دلیل کو لیا ہے ۔ جیسا کہ آتا ہے آنِي اللهِ شَكٍّ فَاطِرِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ (ابراہیم : 11) اے لوگو ! اہیم (11) اے لوگو! کیا تمہیں اس خدا میں شک ہے جس نے آسمانوں اور اس زمین کو پیدا کیا ہے ؟ گو یہ دلیل عام ہے لیکن تعجب ہے کہ سب سے زیادہ اس پر لوگ اعتراض ہے نہ یہ ہے جماتے ہیں اور بالکل ممکن ہے کہ اعتراضوں کی کثرت کا موجب اس کا عام ہونا ہی ہو۔ جن لوگوں نے حقیقت عالم پر غور کیا۔ پیدائش دنیا کے متعلق لوگوں کے خیال وہ کہتے ہیں کہ دنیا کو دیکھ کر خدا کی ہستی کا نتیجہ نکالنا درست نہیں پہلے سب قسم کے خیالات کو لینا چاہئے جو دنیا کے وجود میں آنے کے متعلق پیدا ہو سکتے ہیں پھر ان کا موازنہ کر کے نتیجہ نکالنا چاہئے ۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں دنیا کی ابتداء کے متعلق تین خیال پیدا ہو سکتے ہیں۔ ہوسکتے ا یہ کہ دنیا آپ ہی آپ ہمیشہ سے چلی آرہی ہے ۔ به کہ دنیا نے اپنے آپ کو آپ پیدا کیا۔ ۳۔ یہ کہ کسی نے دنیا کو پیدا کیا۔ پہلے خیال کے یہ معنی ہوئے کہ دنیا کو پیدا کرنے والا کوئی نہیں ہمیشہ سے آپ ہی آپ چلی آرہی ہے اور اس سے یہ نتیجہ نکلے گا کہ غیر محدود زمانہ کو ماننا پڑے گا اور یہ انسانی عقل کے لئے محال ہے کیونکہ غیر محدود محدود میں نہیں سما سکتا ۔ دوسم اس بات کو تسلیم کیا جائے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ کسی مخفی ضرورت یا خواہش کے ماتحت ممکن اوجود نے وجود کا جامہ پہن لیا اور اس بات کا تسلیم کرنا نا مکن ہے ۔ کیونکہ اس صورت میں تسلیم کرنا نے وجود کا۔ پڑتا ہے کہ کوئی چیز طاقت خلق بالقوۃ رکھتی تھی پھر وہ بالفعل ظاہر ہوگئی اور اگر اس بات کو مانا جائے تو دو سوال پیدا ہو جاتے ہیں۔ پہلا سوال یہ کہ جو چیز اپنے اندر ظهور کی طاقت رکھتی تھی ۔ اگروہ کوئی چیز تھی تو دنیا کی پیدائش کی