انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 294

انوار العلوم جلد 4 ۲۹۴ هستی باری تعالی یہ کہ تم کہتے ہو کہ انسان کے پیدا ہو جانے کے بعد پھر کوئی تغیر نہیں ہوا اس کی کیا وجہ ہے ؟ وہ کہتے میں تغیر کے لئے بڑے لیے زمانہ کی ضرورت ہے اور انسان پر چونکہ ابھی اتنا زمانہ نہیں گذرا جو تغیر کے لئے ضروری ہے اس لئے اس میں تغیر نہیں ہوا ۔ مگر ہم کہتے ہیں موجودہ زمانہ کٹ کر شروع ہوا ہے یا وہی چلا آرہا ہے جو پہلے شروع ہوا تھا اگر وہی چلا آرہا ہے تو اگر فرض کرو چھ ہزار سال کے بعد بندر انسان بن گئے تھے تو بندروں کے انسان بننے کے زمانہ پر چھ ہزار سال گزرنے پر اب کیوں بندر انسان نہیں بنے ؟ اس کے مقابلہ میں ہم کہتے ہیں کہ انسان بننے کے بعد اس کی عقلی اور ذہنی ترقی ہوتی جاری ہے اور جس قسم کا ارتقاء ہم تسلیم کرتے ہیں اس کے مطابق کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اگر کال وجود پیدا ہو جانے کی وجہ سے ترقی رک گئی ہے۔ توہم کتے ہیں اگر اس کا یہ مطلب ہے کہ سب حیوانات بدل کر کامل انسان بن گئے ہیں تو یہ غلط ہے ۔ ہر قسم کے جانور اب تک موجود ہیں اس لئے وہ تغیر جاری رہنا چاہئے ۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ اب چونکہ بہتر مخلوق پیدا ہو گئی ہے اس لئے تغیر کی ضرورت نہیں تو ہم کہتے ہیں کہ ضرورت نہیں کے الفاظ ہی بتا رہے ہیں کہ کسی بالا رادہ ہستی نے ایک مقصد کے لئے دنیا کو پیدا کیا تھا جب وہ مقصد پورا ہو گیا تو ایسے تغیرات جو اس مقصد کے حصول کے لئے ضروری تھے انہیں ترک کر دیا گیا ہے اور یہی دلیل ہستی باری کو ثابت کرتی ہے ۔ چوتھی دلیل سبب اور مستقب کی چوتھی دل ہستی باری تعالٰی کے متعلق سبب اور مسبب کی ہے جو عام طور پر استعمال کی جاتی ہے اور جسے ایک ان پڑھ آدمی بھی سمجھ سکتا ہے اس لئے بہت کار آمد ہے۔ کہتے ہیں کسی فلاسفر کو کوئی ان پڑھ زمیندار مل گیا وہ بدوی تھا فلاسفر نے اس سے پوچھا کہ کیا تم خدا کو مانتے ہو ؟ اس نے کہا ہاں مانتا ہوں ۔ فلاسفر نے کہا خدا کے ہونے کی تمہارے پاس کیا دلیل ہے ؟ اس نے کہا الْبَعْرَةُ تَدُلُّ عَلَى الْبَعِيرِ وَأَثَارُ الْأَقْدَامِ عَلَى السَّفِيرِ وَ السَّمَاءُ ذَاتُ الْبَرْحِ وَالْأَرْضُ ذَاتُ الفِجَاجِ كَيْفَ لَا تَدُلُّ عَلَى اللطِيفِ الْخَبِیرِ جب جنگل میں میگنی کو دیکھ کر اونٹ کا پتہ لگایا جاتا ہے اور پاؤں کے نشانات سے چلنے والے گا۔ تو یہ ستاروں