انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 269

انوار العلوم جلد 4 ۲۶۹ هستی باری تعالی متأثر ہو کر مذہب سے دور جا پڑے ہیں اور دوسرے لوگوں نے ان کے اثر کو قبول کیا ہے۔ یورپ کے فلسفہ کا اور فلسفیوں کے خدا تعالیٰ سے اس قدر دور ہو جانے کا سبب یہ ہے کہ جب یورپ میں علمی ترقی ہونے لگی اور طبعی اکتشافات کا سلسلہ شروع ہوا تو پادریوں کو یہ بیوقوفی سوجھی کہ انہوں نے اس ترقی کو مذہب کے خلاف سمجھا اور اس کی مخالفت شروع کر دی جس کی وجہ یہ تھی کہ وہ جانتے تھے کہ مسیحیت کی بنیاد ایسے اصول پر ہے جن کو عقل رد کرتی ہے ۔ اگر لوگوں کی توجہ عقل کی طرف ہو گئی تو اس کو کون مانے گا۔ پس انہوں نے تصرف کو قائم رکھنے رکھنے کے کے لئے جو ان کو عوام الناس پر حاصل تھا علوم ہی کی مخالفت شروع کر دی اور جو بات بھی علوم طبعیہ کے متعلق نئی دریافت ہوئی اسے کفر قرار دے دیا اور کہ دیا کہ یہ مذہب کے خلاف ہے اور اس کی طرف توجہ کرنا گناہ ہے۔ چنانچہ ایک شخص نے جب دریافت کیا کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے تو اس کے متعلق پادریوں نے فتوی دیدیا کہ یہ مذہب سے نکل گیا ہے ۔ آپ حیران ہوں گے کہ زمین کے سورج کے گرد گھومنے کا دعویٰ کر کے وہ شخص کسی طرح مسیحیت سے نکل گیا مگر اس کا جواب انسان ہے۔ پادریوں نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ خدا تعالیٰ کا کلام انسان پر نازل ہوا ہے اور انسان زمین پر بہتا ہے اس لئے زمین سب سے اعلی ہوئی لیکن اگر زمین سورج کے گرد گھومتی ہے تو زمین سورج کے مقابلہ میں ادنی ہوگی تو اس کی ذلت میں شبہ نہ رہا اور اس پر لینے والے بھی ذلیل ہو گئے اس بناء پر اس پر گھر کا فتویٰ دے دیا گیا اور اسے اتنا تنگ کیا گیا کہ آخر اس نے ایک کتاب لکھی جس میں لکھا کہ میں نے سورج کے گرد زمین کے گھومنے کے متعلق جو کچھ لکھا تھا اگر چہ عقل کے رو سے ایسا ہی ثابت ہوتا ہے مگر انسانی عقل ہے کیا چیز کہ اس پر بھروسہ کیا جا دے ۔ اصل بات یہ ہے کہ شیطان چونکہ انسان اور خدا کا دشمن ہے اور خدا کے نور کو دنیا میں پھیلنے سے روکتا ہے اس لئے اس نے میرے دل میں یہ خیال ڈال دیا اور مجھے اس وقت ایسا معلوم ہونے لگا کہ زمین گھومتی ہے۔ یہ عذر کر کے اس نے عقلمندوں کی نگاہ میں تو اپنے دعوئی کو پختہ کر دیا لیکن پادریوں نے اپنی بیوقوفی سے سمجھا کہ اب اس کو عقل آگئی ہے اور اس کی توبہ قبول کی گئی ۔ اس قسم کی باتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایجا دیں کرنے والے اور نئی نئی باتیں دریافت کرنے والے خدا کے ہی خلاف ہو ی خلاف ہو گئے۔ انہوں نے سمجھا کہ اگر ثابت شدہ باتوں اور آنکھوں دھی باتوں پر عقیدہ اور رکھنے سے خدا کے کلام کا انکار ہوتا ہے تو خدا کا کوئی وجود ہی نہیں۔ کیونکہ کس طرح ممکن ہے کہ خدا کا کلام کچھ اور کہے اور اس کا فعل کچھ اور ۔ اس وجہ سے وہ مذہب کے خلاف ہو گئے اور فلسفی