انوارالعلوم (جلد 6) — Page 268
انوار المعلوم جلد 4 ۲۹۸ هستی باری تعالی خدا تعالیٰ کے حضور التجا - نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ کیا ہیں ؟ خدا تعالیٰ کی عبادات ۔ بندوں سے محسن سلوک کیا ہے ؟ اپنے محبوب کے پیاروں سے پیار اور اس ذریعہ سے اپنے محبوب سے ملنے کی خواہش اور اس کے انعامات کی اُمید ۔ غرض سارے کے سارے مضمون اس کے گرد اس طرح گھومتے ہیں جس طرح چاند سورج کے گرد گھومتا ہے ۔ کی ہستی باری تعالیٰ کے مضمون کی ضرورت میرا مضمون خدا تعالی ہستی کو ثابت کرنا نہیں بلکہ ذات باری ہے مگر چونکہ اس کا یہ بھی حصہ ہے اس لئے بیان کرتا ہوں ۔ اس زمانہ میں گناہ اور بدی کی کثرت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ خدا کا انکار کرتے ہیں اور سب بدیاں اور گناہ خدا کو نہ سمجھنے اور اس پر حقیقی ایمان نہ لانے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اس لئے بھی اس مضمون کو سمجھنے کی بہت ضرورت ہے۔ پھر یورپ کی سے تعلیم نے کالج کے لڑکوں کو بالکل آزاد بنا دیا ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا جاہل تھے جو خدا باپ کو مانتے تھے۔ نہ کوئی خدا ہے اور نہ اس کے ماننے کی ضرورت ۔ میں حج کے لئے گیا تو میرے ساتھ جہانہ میں تین طالب علم بھی تھے جو ولایت جا رہے تھے۔ ان میں سے دو مسلمان تھے اور ایک ہندو۔ ان کی ایک پادری سے بحث ہوئی جسے سن کر مجھے اس خیال سے خوشی ہوئی کہ انہیں بھی مذہب سے تعلق ہے۔ یہ سمجھ کر میں نے ان سے کوئی مذہبی بات کی تو وہ تینوں بول اُٹھے کہ کیا آپ کا یہ مطلب ہے کہ ہم خدا کو مانتے ہیں ۔ میں نے کہا ہاں ۔ پادری صاحب سے جو آپ مذہب کے متعلق گفتگو کر رہے تھے ۔ وہ کہنے لگے ہم تو قومی مذہب کی حمایت کر رہے تھے نہ کہ خدا کو مان کر اس کے مذہب کی حمایت کرتے تھے۔ یہ حمایت مذہب کی نہ تھی بلکہ ہندو شانیت کی۔ اس زمانہ میں خدا کا انکار حد سے بڑھا ہوا ہے اور یہاں تک دلیری سے انکار کیا جاتا ہے کہ ایک دفعہ گفتگو کے درمیان میں انہیں طالب علموں میں سے ایک نے جو نسلاً ہندو تھا میز پر تن کا پھینک کر کہا میں تو اس میز کو اٹھا کر دکھا سکتا ہوں تمہارا خدا اس تنکے کو اٹھا کر دکھا دے ۔ اس کی باتوں کا مجھ پر ایسا اثر ہوا کہ میں نے آتے ہی ایک ٹریکٹ لکھا جس میں خدا تعالیٰ کی ہستی کے دلائل دیئے۔ مگر آج اس اس ۔ سے زیادہ وسیع مضمون بیان کرنے کا ارادہ ہے اگر خدا تعالی توفیق دے۔ خدا کے انکار کی وجہ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ کا انکار بہت بڑھا ہوا ہے جس کا بڑا سبب تو یہ ہے کہ گناہ کی کثرت کی وجہ سے تعلق باللہ نہیں رہا اور دلوں پر زنگ لگ گیا ہے ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ انگریزی دان لوگ یورپ کے فلسفہ سے