انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 220

انوار العلوم جلد 4 ۲۲۰ آئینه صداقت فرموده کولپس پشت ڈال کر پیر پرستی شروع کر دی اور جمہوریت کے رنگ کو نیا منیا کر دیا ۔ اس وقت جماعت میں بہت سے لوگ ایسے موجود ہیں جنہوں نے بیعت مجبوری سے کی ہے ورنہ ان کے خیال میں اس بیعت لینے والے کی نسبت حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفه اول) بہتر لوگ جماعت میں موجود ہیں۔ اور اس امر کا اصل و بال کارکنان صدر انجمن احمدیہ پر ہے جنہوں نے بانی سلسلہ کی وفات پر جماعت کو پیر پرستی کے گڑھے میں دھکیل دیا ۔ اب یہ حال ہے کہ حصول گری کے لئے طرح طرح کے منصوبے کئے جاتے ہیں۔ اور ایک خاص گروہ انصار اللہ اس لئے بنایا گیا ہے کہ تا قوم کے جملہ بزرگواروں کو پہنچا دکھایا جاوے ۔ انصار اللہ کا کام ظاہر میں تو تبلیغ ہے لیکن اصل میں بزرگان دین کو منافق مشہور کرنا ہے ۔ مولوی غلام حسین صاحب پشاوری ، میر حامد شاہ صاحب سیالکوٹی ، مولوی محمد علی صاحب ، خواجہ کمال الدین صاحب ، شیخ رحمت اللہ صاحب ، ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب ، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب ان لوگوں کو قابل دابہ بتایا جاتا تھا۔ حضرت مسیح موعود نے صاف طور پر انجم طور پر انجمن کو اپنا جانشین قرار دیا ہے نہ کسی واحد شخص کو ۔ حضرت مسیح موعود نے صاف لکھ دیا ہے کہ آپ کے بعد صدرانجمن کا فیصلہ ناطق ہوگا ۔ اب جماعت کی حالت کو دیکھو کہ غیر مامور کی ہر ایک بات کو تسلیم کیا جاتا ہے پیغام صلح کو بند کر کے خلیفہ نے جماعت کو اس سے بد ظن کر دیا۔ دپیغام صلح کی منافقانہ کارروائیوں سے تنگ آکر حضرت خلیفۃ المسیح نے اعلان فرما دیا تھا کہ اسے میرے نام نہ بھیجا کرو اور پھر جب یہ لوگ بھیجتے رہے تو آپ نے ڈاک سے وصول کرنے سے انکار کر دیا ۔ مرزا محمود احمد ) جب ایک معزز طبقہ کی بے عزتی بلا وجہ وہ شخص جو جماعت میں عالم قرآن سمجھا جاتا ہے (یعنی خلیفہ اول ، محض خلافت کی رعونت میں کر دیتا ہے تو بے سمجھ نوجوان طبقہ سے بزرگان جماعت کیا امید رکھ سکتے ہیں ؟ بزرگان قوم ان کارروائیوں کو کب تک دیکھیں گے اور خاموش رہینگے؟ احمدیو دوسرے پیر زادوں کو چھوڑو اور اپنے پیر زادوں کی حالت کو دیکھو۔ دوسرے ٹریکیٹ کا خلاصہ یہ تھا۔ جماعت احمدیہ میں کوئی عیار دوسرے ٹریکٹ کا لایا نہیں ۔ غیر مامور کی شخصی غلامی (یعنی حضرت خلیفہ اول کی بعیت) نے ہماری حالت خراب کر دی ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے وقت میں جماعت بہت آزادی سے گفتگو کرلیتی تھی۔ اب سخت تقید کیا جاتا ہے اور خلیفہ کے کان بھر کر بھائیوں کو تکلیف دی جاتی ہے ۔ اگر چندے یہی حالت رہی تو احمدی پیر پرستوں اور غیر احمدی پیر پرستوں میں کوئی فرق نہ رہے گا۔ حضرت مسیح موعود کے ایک سو سال بعد ہی کوئی مصلح