انوارالعلوم (جلد 6) — Page 215
انوار العلوم جلد 4 ۲۱۵ آئینه صداقت تھا ۔ جیسے احمدی جماعت بھی کثرت سے خریدتی تھی اور خطرہ تھا کہ بعض لوگ اس کے زہریلے اثر سے متاثر ہو جاویں۔ چنانچہ میں نے اس کے لئے خاص کوشش شروع کی اور حضرت خلیفہ المسیح سے اس امر کی اجازت حاصل کی کہ قادیان سے ایک نیا اخبار نکالا جائے جس میں علاوہ مذہبی امور کے دنیاوی معاملات پر بھی مضامین لکھے جاویں تاکہ ہماری جماعت کے لوگ سلسلہ کے اخبارات سے ہی پنی سب علمی ضروریات کو پورا کرسکیں جب حضرت خلیفہ المسیح سے اجازت حاصل کر چکا تو مجھے معلوم ہوا کہ لاہور سے ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب ، ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب اور شیخ رحمت اللہ صاحب بھی ایک اخبار نکالنے کی تجویز کر رہے ہیں۔ چنانچہ اس بات کا علم ہوتے ہی میں نے حضرت خلیفتہ اسیح کو ایک رقعہ لکھا جس کا مضمون یہ تھا کہ لاہور سے مجھے اطلاع ملی ہے کہ فلاں فلاں احباب مل کر ایک اخبارہ نکالنے لگے ہیں چونکہ میری غرض تو اس طرح بھی پوری ہو جاتی ہے ۔ حضور اجازت فرمادیں تو پھر اس اخبار کی تجویز رہنے دی جاوے ۔ اس کے جواب میں جو کچھ حضرت خلیفہ امسیح نے تحریر فرمایا اس کا مطلب یہ تھا کہ اس اخبار اور اس اخبار کی اغراض میں فرق ہے آپ اس کے متعلق اپنی کوشش جاری رکھیں ۔ اس ارشاد کے ماتحت میں بھی کوشش میں لگا رہا ۔ ۱۹۱۳ء پیغام صلح اور الفضل کا اجراء جو کے ابتداء میں اخبار پیغام صلح لاہور میں شائع ہوا اور وسط میں الفضل قادیان سے نکلا ۔ بظاہر تو سینکڑوں اور اخبارات ہیں جو پہلے سے ہندوستان میں نکل رہے تھے دو اور اخبارات کا اضافہ معلوم ہوتا تھا مگر در حقیقت احمدی جماعت کی تاریخ میں ان اخبارات کے نکلنے نے ایک اہم بات کا اضافہ کر دیا۔ صلح کے نکلنے سے وہ مواد جو خفیہ خفیہ جماعت میں پیدا ہو رہا تھا پیغام صلح کی روش پھوٹ پڑا اور کھلے بندوں سلسلہ کی خصوصیات کو مٹانے کی کوشش کی جانے لگی ۔ قادیان کی جماعت خاص طور پر سامنے رکھ لی گئی اور سلسلہ کے دشمنوں سے صلح کی داغ بیل پڑنے لگی۔ اصل غرض تو شاید اس رسالہ سے خواجہ صاحب کے مشن کی تقویت تھی مگر طبعاً ان مسائل کو بھی چھیڑنا پڑ گیا جو مابہ النزاع تھے۔ غیر احمدیوں میں اس اخبار کی اشاعت کی غرض سے حضرت مسیح موعود عليه الصلاة والسلام کو مرزا صاحب علیہ الرحمہ لکھا جانے لگا اور دشمنانِ سلسلہ کی تعریف کے گیت گائے جانے لگے ۔ ترکوں کے بادشاہ کو خلیفہ المسلمین کے لقب سے یاد کیا جانے لگا۔ ترلا کی شہوار یعنی وہ اشعار آبدار جو مولوی ظفر علی خان صاحب ایڈیٹر زمیندار نے ۲۴ رجب کو بارگاہ سلطان المعظم