انوارالعلوم (جلد 6) — Page 214
انوار العلوم جلد 4 ۲۱۴ آئینه صداقت میں نہیں ۔ مگر میری تحریریں ان لوگوں میں پھیلیں گی اور بہت سے راستباز انگریز صداقت کے شکار ہو جائیں گے۔ ازالہ اوہام جلد دوم صفحہ ۲۷۷ ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۷۷ ) اس کشف کا مضمون ہی بتاتا ہے کہ یہ کشف خواجہ صاحب کے ہاتھ پر پورا نہیں ہوا کیونکہ کشف تو بتاتا ہے کہ پرندے مسیح موعود نے پکڑے ہیں۔ حالانکہ خواجہ صاحب نے جن لوگوں کو مسلمان بنایا ان کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام سے ہرگز نہیں کرایا ۔ وہ اسلام جس کی تلقین خواجہ صحاب کرتے رہے ہیں۔ اس میں تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری بھی شامل ہیں ۔ غرض کے غرض کو اس کشف کا تعلق خواجہ صاحب سے کچھ بھی نہ تھا۔ جیسا کہ بعد کے تجربہ سے ثابت ہوا ۔ وہ احمدیوں میں اپنی مقبولیت بڑھانے کے لئے اس کشف کی اشاعت کرتے رہے۔ د شروع میں ایک عرصہ تک خواجہ صاحب نے بالکل پتہ نہیں چلنے دیا کہ وہاں کس قسم کی تبلیغ کر رہے ہیں ، مگر یہ سب اعلانات احمدیوں میں ہی تھے ۔ غیر احمدیوں کو یہی بتایا جاتا تھا کہ تبلیغ عام اسلامی اصول کے مطابق ہو رہی ہے اس لئے سب کو چندہ دینا چاہئے اور اس کار خیر میں حصہ لینا چاہئے۔ حضرت مسیح موعود کی ایک پیشگوئی کے پورا جب خواجہ صاحب ولایت پہنچے ہیں تو ہونے پر خواجہ صاحب کا اس کا ذکر نہ کرنا ں کا ذکر نہ کرنا ایک وقت بلقان وارد جگ بلقان شروع تھی۔ خواجہ صاحب نے اس کے متعلق ایک ٹریٹ لکھا اور اس میں حضرت مسیح موعود کا الهام غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُم مِّنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ لکھ کر ترکوں کو حضرت مسیح موعود کی بعثت کی خبر دی۔ ہم لوگ تو اس خبر کو سن کر بہت خوش ہوئے کہ خواجہ صاحب آخر اصل راستہ کی طرف آگئے ہیں۔ لیکن کچھ ہی دن کے بعد جب ایک دو انگریزوں کے مسلمان ہونے پر غیر احمدیوں نے خواجہ صاحب کی مدد شروع کی اور ان کو یہ بھی بتایا گیا کہ سلسلہ کا ذکر کرنے سے ان کی مد د رک جاوے گی۔ تو وہی خواجہ صحاب جنہوں نے پیشنگوئی کے پورا ہونے سے پہلے اس کا اعلان بلاد ترکیہ میں کیا تھا۔ اس کے پورا ہونے پر ایسے خاموش ہوئے کہ پھر اس پیشگوئی کا نام تک نہ لیا۔ ۱۹۱۳ء واقعات ہوئے۔ احمدیہ پریس کے مضبوط کرنے کا خیال ہے وہیں کا ہوتا ہے ایریا کے رہیں حج سے کے مجھے قادیان پریس کی مضبوطی کا خاص طور پر خیال پیدا ہوا جس کا اصل محترک مولوی ابو الکلام صاحب آزاد کا اخبار الهلال تذکره صفحه ۵۰۲ ایڈیشن چهارم