انوارالعلوم (جلد 6) — Page 6
انوار العلوم جلد 4 4 ضرورت مذهب محسوس نہ ہوتی تھی لیکن آج جب ریل آگئی ہے تو جس گورنمنٹ میں نہ ہو اس پر اعتراض ہوتا ہے کہ یہ ضرورت کی چیز اس میں نہیں یا ڈاک کا جب ایسا انتظام نہ تھا تو اس کی ضرورت بھی محسوس نہ ہوتی تھی مگر جب ہوا تو جہاں نہ ہو وہاں اعتراض ہوتا ہے ۔ اسی طرح جب تک خدا نہیں ملتا۔ مگر ہوا تو نہ ہو ہوتا ۔ اسی خدا اس وقت تک اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ لیکن جب مل جائے تو پھر انکار نہیں ہو سکتا اور انسان اس کے بغیر اپنی زندگی کو اچھی طرح نہیں گزار سکتا۔ پیس مذہب کی ضرورت کا سوال خدا کی ہستی سے وابستہ ہے اگر خدا ہے تو مذہب کی بھی ضرورت ہے ۔ خدا کی ہستی کا ثبوت اب سوال ہوتا ہے کہ خدا کا کیا ثبوت ہے اور اگر ہے تو اس کا ہم پر کیا اثر پڑتا ہے کیونکہ یہ بات مسلمہ ہے کہ ہر چیز کا اثر لازمی ہے۔ اور خدا کا بھی اثر ہونا چاہئے۔ چنانچہ ایک امریکن سائنس دان نے لکھا تھا کہ اگر خدا ہے تو اس کو ماں با سے زیادہ مہربان ہونے کے باعث ہم پر ماں باپ سے زیادہ مہربانی کا اظہار کرنا چاہئے ۔ وہ ہم سے بولے ۔ یہ اس یہ اس کا صحیح فطرتی مطالبہ تھا ۔ پس اگر خدا ہے اور اس نے ہمیں پیدا کیا ہے تو ہمیں اس کا ثبوت بھی ملنا چاہئے ورنہ اگر اس کا ہم سے تعلق نہیں تو اس کی عبادت بے معنی بات ہو گی لیکن یہ واقعہ ہے اور جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں خدا ہے اور ایسا ہے جو اپنے ساتھ تعلق رکھنے والوں کو انعام دیا اور جو اس کی نافرمانی کرتے ہیں ان کو سزا دیتا ہے ۔ وہ اپنی صفات کا اظہار کرتا ہے۔ گونگا نہیں۔ وہ اپنے بندوں کو اپنی رضا کی راہیں بتاتا ہے ۔ جس قدر مذاہب ہیں وہ بتاتے ہیں کہ ان کے بانیوں سے خدا نے مکالمہ کیا۔ سکھ اپنے گوروں کو پیش کرتے ہیں۔ اور دیگر مذاہب والے اپنے بزرگوں کو ۔ مگر سب اپنے گذشتہ بزرگوں کو پیش والے اپنے بزرگوں کو مگر سب اپنے گذشتہ بزرگوں کو پیش کرتے ہیں مسلمان بھی مانتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خدا نے کلام کیا اور مسلمان مانتے رہے ہیں کہ خدا اپنے پیاروں سے باتیں کرتا ہے مگر تھوڑے عرصہ سے ان میں یہ غلطی آگئی ہے کہ انھوں نے سمجھ لیا خدا نے اب بولنا چھوڑ دیا ہے۔ سب مذاہب کے پیروؤں کا اپنے مذہب کی ابتداء اسلام کی فضیلت دیگر مذاہب پر میں مانتا کہ خدا کام کرتا تھا اور اب اس سے انکار کرنا بتاتا ہے کہ وہ مذاہب اپنی اصلی حالت پر نہیں رہے۔ لیکن اسلام اب بھی وہ بات پیش کرتا ہے جو مذہب کا مغز اور تمام مذاہب کا طغرائے امتیا نہ رہا ہے یعنی مکالمہ المیہ۔ چنانچہ اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود کے ذریعہ خدا نے اپنا کلام دنیا میں پیش کیا اور آپ کے بعد بھی یہ سلسلہ بند نہیں ہوا۔ بلکہ